اکتوبر اور نومبر میں کورونا کے سبب یورپ میں مزید ہلاکتیں ہو سکتی ہیں

Updated: September 16, 2020, 8:46 AM IST | Agency | Washington

عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ، ادارے کے مطابق ویکسین دریافت ہوجانے کے باوجود ضروری نہیں ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پالیا جائے

Fear of Coronavirus - Pic : PTI
کورونا وائرس کا خوف ۔ تصویر : پی ٹی آئی

عالمی ادارۂ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کورونا وائرس سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نےایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر  کے مہینے یورپ کے کئی ممالک کیلئے اچھے نہیں ہوں گے۔
  اُن کے بقول کورونا وائرس سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے ۵۵؍ ممالک میں  گزشتہ جمعہ کو کورونا کے ۵۱؍ہزار کے لگ بھگ کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد اپریل میں یومیہ تعداد سے بھی زیادہ ہے جب یورپ میں وبا کی شدت تھی۔
 اگرچہ یورپ میں کیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں مگر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ مگر عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کیس کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ہانس کلوگ نے کہا کہ ’’یہ ایسا وقت ہے کہ کئی ممالک بری خبر سننا نہیں چاہتے۔ ہم ان کی یہ خواہش سمجھ سکتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وہ بھی مثبت خبر دینے پر زور دیتے ہیں مگر’یہ وقت کبھی نہ کبھی ختم ہو گا۔یورپ میں عالمی ادارۂ صحت کے ۵۰؍ رُکن ممالک پیر اور منگل کو آن لائن اجلاس کر رہے ہیں جس میں کورونا وائرس کے خلاف ردعمل کیلئے اگلے پانچ برس کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
 کلوگ نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ویکسین آنے کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔انہوں نے کہا ’’میں یہ ہر وقت سنتا ہوں کہ ویکسین آنے سے وبا ختم ہو جائے گی۔ لیکن  ایسا ہرگز نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم یہ نہیں جانتے کہ ویکسین ہر فرد کیلئے یکساں طور پر  کارآمد ہو گی۔ ہمیں اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ ویکسین کسی گروہ کیلئے مفید ہو گی تو دوسروں کے لئے نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں ایک سے زائد ویکسین پر انحصار کرنا پڑا تو ان کی ترسیل بہت مشکل ہو جائے گی۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی وبا کا اختتام تب ہو گا جب ہم اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی وبا کے خلاف تمام ممالک کا ردعمل سائنسی اور تحفظ صحت کے مطابق ہونا چاہئے۔ واضح رہے کہ یورپ کے مختلف ممالک ایک کے بعد ایک کورونا کی لپیٹ میں آئے ہیں اور اس کا کوئی نہ کوئی ملک کورونا کا مرکز بنا رہا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK