• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلغاریہ یورو زون میں شامل: یورو اب سرکاری کرنسی، یورپ میں انضمام

Updated: January 02, 2026, 3:06 PM IST | Sofia

بلغاریہ نے ۲۰۲۶ء سے یورو کو سرکاری کرنسی بنا کر یورو زون میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جو اس کے یورپی انضمام کا ایک بڑا مرحلہ ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، مگر ملک میں سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور عوامی تقسیم جیسے چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بلغاریہ یکم جنوری ۲۰۲۶ء سے اپنی قومی کرنسی بلغاریائی لیو کو ترک کر کے یورو کو قانونی ٹینڈر کے طور پر اپنانے والا ۲۱؍ واں ملک بن گیا ہے۔ یہ قدم یورپی یونین کے ساتھ بلغاریہ کے انضمام میں ایک تاریخی سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ لیو جنوری کے اختتام یعنی یکم فروری ۲۰۲۶ء تک قانونی ٹینڈر رہے گا، جس کے بعد یورو واحد سرکاری کرنسی بن جائے گی، جبکہ اشیاء اور مصنوعات پر قیمتوں کے دونوں ٹیگ (لیو اور یورو) اگست ۲۰۲۶ء تک لگائے جائیں گے۔ اس وقت ۲۷؍  رکنی یورپی یونین میں صرف چھ ممالک اپنی قومی کرنسیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں جمہوریہ چیک، ڈنمارک، ہنگری، پولینڈ، رومانیہ اور سویڈن شامل ہیں۔ بلغاریہ یکم جنوری ۲۰۰۷ء کو یورپی یونین کا رکن بنا تھا۔ سیاسی انضمام کے تقریباً ۱۹؍ برس بعد یورو کو اپنانے کا یہ فیصلہ روس کیلئے ایک جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیویارک سٹی: پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر حلف لیا

یاد رہے کہ نومبر میں بلغاریہ کے سابق وزیر اعظم روزن زیلیازکوف نے کہا تھا کہ یورو ’’صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک انتخاب‘‘ ہے جس سے یورپ میں بلغاریہ کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ تاریخی طور پر بلغاریہ مشرقی بلاک اور سابق سوویت یونین کے اثر و رسوخ میں رہا۔ اس کی کمیونسٹ حکومت ماسکو کے ساتھ ہم آہنگ تھی اور وارسا معاہدہ اور کوم کون کی رکن بھی تھی۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اواخر میں سوویت معیشت کے جمود اور سیاسی دباؤ کے باعث حالات بدلے۔ سوویت لیڈر میخائل گورباچوف نے بریژنیف نظریہ ترک کیا اور مشرقی یورپ میں طاقت کے استعمال سے گریز کیا، جس کے نتیجے میں بلغاریہ میں سیاسی عدم استحکام اور معیشت میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ مرکزی منصوبہ بندی ناکام ہوئی اور سرمایہ دارانہ نظام نے جگہ بنائی۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: ویب سائٹ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مکان کےاسرائیلی اشتہار ہٹانے کا حکم

بلغاریہ کی موجودہ صورتِ حال
اگرچہ مالیاتی انضمام ایک بڑی پیش رفت ہے مگر بلغاریہ میں سیاسی عدم استحکام بدستور موجود ہے۔ ۲۰۲۱ء کے بعد سے ملک میں سات پارلیمانی انتخابات ہو چکے ہیں۔ بلغاریہ کو یورو زون کے نسبتاً غریب اور بدعنوان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ۱۱؍ دسمبر کو وزیر اعظم روزن زیلیازکوف نے ۲۰۲۶ء کے بجٹ اور بدعنوانی کے الزامات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
یورو کو اپنانے پر عوامی رائے منقسم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ۸ء۴۶؍ فیصد شہری اس فیصلے کے مخالف جبکہ ۵ء۴۶؍ فیصد اس کے حامی ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے قومی شناخت کمزور ہوگی اور ملک کو معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ حامیوں کے مطابق اس سے بلغاریہ ایک مضبوط معاشی بلاک میں شامل ہوگا اور معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ بلغاریہ اکیڈمی آف سائنسز کے اکنامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر روستسا رنگیلووا نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ایسے بنیادی فیصلوں میں عوامی رائے اہم ہوتی ہے، تاہم بلغاریہ کی حکومت نے برسوں سے ریفرنڈم کے مطالبے کو مسترد کیا ہوا ہے۔

معاشی اعداد و شمار
بلقان کے اس ۴ء۶؍ ملین آبادی والے ملک میں جی ڈی پی کی شرح ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء میں بالترتیب ۷ء۲؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK