اس بہانے طبی خدمات کی صورتحال پرغور ہو

Updated: March 24, 2020, 2:56 PM IST | Editorial

پورے ملک میں ہر سطح کے ارباب اقتدار کورونا وائرس کو دفع کرنے کی ہر ممکن تدبیر اپنا رہے ہیں۔ شہریوں کو بھی متعدد ہدایات دی گئی ہیں اور اُن پر سختی سے عمل کروایا جارہا ہے۔ پورا ملک ایک کشتی میں سوار ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ یہ کشتی صحیح و سالم حالت میں ساحل تک پہنچ جائے۔ خدا کرے یہ کوشش کامیاب ہو۔

Indian Hospital - Pic : INN
ہندوستانی اسپتال ۔ تصویر : آئی این این

 پورے ملک میں ہر سطح کے ارباب اقتدار کورونا وائرس کو دفع کرنے کی ہر ممکن تدبیر اپنا رہے ہیں۔ شہریوں کو بھی متعدد ہدایات دی گئی ہیں اور اُن پر سختی سے عمل کروایا جارہا ہے۔ پورا ملک ایک کشتی میں سوار ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ یہ کشتی صحیح و سالم حالت میں ساحل تک پہنچ جائے۔ خدا کرے یہ کوشش کامیاب ہو۔
 چونکہ اس وقت نہ تو گہما گہمی ہے نہ ہی مصروفیت، اس لئے ان فارغ اوقات کو نعمت سمجھتے ہوئےملک کے کم از کم طبی نظام اور صحت عامہ کی حقیقی صورتحال پر غورو خوض کیا جانا چاہئے بالخصوص اُن زمینی حقائق پر جن کی وجہ سے بیمار تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے مگر اُسے خاطر خواہ طبی امداد نہیں مل پاتی یا پھر کوئی ’مانجھی‘ اسپتال کی جانب سے ’کشتی‘ (ایمبولنس) نہ ملنے کے سبب بیوی کی لاش اپنے کاندھوں پر اُٹھائےطویل مسافت طے کرتا ہے۔ عوامی صحت کی جو فکر کورونا کے خلاف کی جارہی ہے وہ کسی بھی  وائرس اور بیماری کے خلاف ملک بھر میں ہونی چاہئے کیونکہ ہر انسانی جان قیمتی اور اہم ہے خواہ اسے کورونا سے خطرہ لاحق ہو یا ملیریا،ٹائیفائیڈ، ڈینگو، شوگر، بلڈ پریشر، نمونیا اور یرقان جیسے امراض سے۔ کورونا کے خلاف اہل اقتدار کی فکرمندی جتنی  اطمینان بخش ہے اُتنی تکلیف دہ عام دِنوں میں اُن کی لاپروائی ہوتی ہے اور غریب آدمی تو اسپتال میں داخلہ سے قبل بھی اور داخلہ کے بعد بھی ہزار طرح کے حقیر اندیشوں سے گزرتا رہتا ہے۔
 ہمارے ملک میں سرکاری اسپتالوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ایک امریکی طبی مرکز (سینٹر فار ڈسیز ڈائنامکس، اکنامکس اینڈ پالیسی) سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اندازاً ۶؍ لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار سےاس کی توثیق ہوتی ہے۔ جون ۲۰۱۸ء میں نیشنل ہیلتھ پروفائل کے عنوان سے جو رپورٹ وزارت صحت نے جاری کی تھی اس میں ۱۱؍ ہزار ۸۲؍ افراد پر ایک ڈاکٹر کے تناسب کا اعتراف کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کو عالمی ادارۂ صحت کے قائم کردہ معیار تک پہنچنے کیلئے ۱۰؍ گنا زیادہ ڈاکٹروں (ایلوپیتھی ) کی ضرورت ہے۔ اس خلیج کو پاٹنے کیلئے حکومت کو ایلوپیتھی کے ساتھ ساتھ دیگر پیتھی کے سند یافتہ ڈاکٹروں کو بھی موقع دینا چاہئے مگر اس سلسلے میں اہل اقتدار کا طرز عمل اس قابل نہیں ہے کہ اس کی ستائش کی جائے۔ حکومت یونانی، آیوروید اور دیگر شعبہ ہائے طب کے ڈاکٹروں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے تو ڈاکٹرمریض تناسب،  جو کافی زیادہ ہے، کم ہوسکتا ہے۔ 
 ان اعدادوشمار کی جیتی جاگتی تصویر اُس وقت دیکھی جاسکتی ہے جب بڑے شہروں کے بڑے اسپتالوں کو سامنے رکھنے کے بجائے دیہاتوں اور قصبوں میں پائی جانے والی دشواریوں کو پیش نگاہ رکھا جائے۔ ویسے بھی ۱۰؍ ہزار ۱۸۹؍ شہریوں پر ایک سرکاری ڈاکٹر کا تناسب پوری کیفیت بیان کردیتا ہے۔ اسی طرح نرسوں کی قلت کا معاملہ ہے۔ مریض اور نرس کا تناسب ۱:۴۸۳؍ ہے یعنی اوسطاً ۴۸۳؍ مریضوں پرایک نرس۔ اس میں قصور صرف حکومت کا نہیں، عوام کا بھی ہے کہ ہم نے نرسنگ کے ایک ایسے پیشے کی اہمیت کو نہیں سمجھا جس میں ملازمت کے عوض تنخواہ تو ملتی ہی ہے، خدمت کا بہترین موقع بھی ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔ 
 ڈاکٹروں اور نرسوں سے پہلے اسپتالوں (سرکاری) اور اُن میں بستروں کی مضحکہ خیز صورتحال کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ ’نیشنل ہیلتھ پروفائل‘ میں یہ بھی درج ہے کہ ملک میں ایک ہزار ۸۴۴؍ کی آبادی پر ایک ہاسپٹل بیڈ ہے۔ اگر خدانخواستہ ان میں سے ۱۰؍ فیصد لوگ بھی بیک وقت اسپتال داخل ہوں تو ایک بیڈ پر ۸۵؍ مریض کا تصور ہی تڑپا دینے والا ہوگا۔ 
 اتنی احتیاطی تدابیر کے بعد ہم کورونا سے تو جیت جائینگے (ان شاء اللہ) مگر اصل جیت اس وقت ہوگی جب اپنے طبی نظام کی خامیوں کو سچے دل سے دور کرینگے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK