ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب ہزاروں  مزدور مختلف ریاستوں میں پھنس گئے

Updated: March 26, 2020, 9:12 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے اور اس کے پھیلاؤ کوروکنے کیلئے منگل کی رات ۱۲؍ بجے سے نافذ کئے گئے ۲۱؍ دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر میں  دسیوں  ہزار یومیہ مزدور پھنس کر رہے گئے ہیں۔ یوپی بہار اوردیگر ریاستوں   سے شہروں میں مزدوری کرنے کیلئے آنے والے یہ مزدور ٹرین اور بس سروس معطل کردیئے جانے کی وجہ سے اپنے گاؤں نہیں  لوٹ پارہے ہیں جبکہ شہروں میں لاک ڈاؤن کے درمیان مزدوری نہ ملنے پر انہیں بھکمری کا خطرہ بھی ستارہاہے۔

Ahmedabad Labors returning home - Pic : PTI
احمدآباد میں مزدور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹرک کے ذریعہ گاؤں روانہ ہوتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

 کورونا وائرس  سے مقابلہ کرنے اور اس کے پھیلاؤ کوروکنے کیلئے منگل کی رات ۱۲؍ بجے سے نافذ کئے گئے ۲۱؍ دن  کے لاک ڈاؤن  کی وجہ سے ملک بھر میں  دسیوں  ہزار  یومیہ مزدور پھنس کر رہے گئے ہیں۔ یوپی بہار  اوردیگر ریاستوں   سے  شہروں میں مزدوری کرنے کیلئے آنے والے یہ مزدور ٹرین اور  بس سروس معطل کردیئے جانے کی وجہ سے  اپنے گاؤں نہیں  لوٹ پارہے ہیں جبکہ شہروں میں لاک ڈاؤن کے درمیان  مزدوری  نہ ملنے پر انہیں بھکمری کا خطرہ بھی ستارہاہے۔ مرکزی حکومت پر بھی تنقید ہورہی ہے کہ بیرون ملک پھنس جانے والے ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے میںذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والی حکومت اندرون ملک پھنسے ہوئے اپنے غریب مزدوروں کے تعلق سے لاپروائی کیوں  کر برت رہی ہے۔
  پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ میں سرکاری اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بھر میں غیر منظم شعبے میں ۴۲؍ کروڑ مزدور ہیں۔  ان میں بڑی تعداد  ایسے مزدوروں کی ہے جو اپنا گھر بار چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرتےہیں۔ تمام ذرائع آمدورفت کے بند ہوجانے کی وجہ سے اب وہ پھنس کررہ گئے ہیں۔  ان کی فکر مندی جہاں وطن لوٹنے کی وہیں یہ پریشانی بھی کہ ذریعہ آمدنی بند  ہوجانے کے بعد ۲۱؍ دنوں تک ان کا ان کے اہل خانہ کے اخراجات کیسے پورے ہوںگے۔۲۲؍ سالہ بھوپیش کمار جو دہلی میں پھنس کررہ گئے ہیں، نے بتایا کہ ’’ میں گریجویشن کررہاتھا مگر تعلیم چھوڑ کر ۵؍ مہینے قبل کمانے کیلئے دہلی آنا پڑا۔میں ابھی کام سیکھ ہی رہاتھا، کچھ کما بھی نہیں پایا اور لاک ڈاؤن میں پھنس گیا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK