Inquilab Logo Happiest Places to Work

تکنیکی خرابیوں کی رپورٹ کے باوجود ویٹ لیزبسوں کو چلانے کی اجازت

Updated: July 14, 2026, 11:39 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

۴؍جون سے ۱۰؍ جولائی تک ۵؍ حادثات پیش آچکے ہیں۔ مسافروں اور راہگیروں کیلئے خطرہ برقرار ۔ بیسٹ انتظامیہ کے فیصلےکی بیسٹ کمیٹی ممبران کی سخت مخالفت، رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ۔

A wet lease bus hit several vehicles near Plaza Cinema in Dadar. (File photo)
دادر میں پلازہ سنیما کے پاس ویٹ لیز بس نے کئی گاڑیوں کو ٹکرماردی تھی۔ (فائل فوٹو)

ویٹ لیز بسوں میں متعدد تکنیکی خامیوں اور اس سے مسلسل  حادثات و اموات کے باوجود بیسٹ انتظامیہ نے ویٹ لیز بسوں پر روک لگانے کے بجائے اسے  جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے ۔ ان بسوں کے تعلق سے جانچ کے بعد ترتیب کردہ رپورٹ میں مختلف بڑی خامیوں جن میں بس کے اسٹیئرنگ کے  اچانک رک جانے اوربریک نہ لگنے جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس کی وجہ سے مسافروں اورراہگیروں کے حادثات کا شکار ہونے کا اندیشہ  ہے ۔بیسٹ کے اس فیصلے سےبیسٹ کمیٹی میں برسراقتدار پارٹیوں کے ممبران اور اپوزیشن   اراکین دونوں ہی نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور بیسٹ   پر ویٹ لیز بسوں میں تکنیکی خامیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ 

ویٹ لیزبسوں سے پیش آنے والے حادثات

حال ہی میں اندھیری میں ویٹ لیز بس کا بریک فیل ہونے کے سبب   حادثہ میں ڈرائیور نے ۱۴؍ گاڑیوں کو بری طرح ٹکر ماردی تھی ۔ اس حادثہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا ۔ یہی نہیں ۴؍ جون سے ۱۰؍ جولائی کے درمیان   ۵؍ حادثات پیش آچکے  ہیں ۔ 

یہ بھی پڑھئے: ادھو ٹھاکرے کا سونم وانگ چک کی حمایت کا اعلان

پہلا حادثہ ۴؍ جون کو ویٹ لیز بس کے ڈرائیور نے ملاڈ مشرق کے پشپا پارک میں لاپروائی سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک کار کو ٹکر ماردی تھی۔ اس  حادثہ میں کوئی زخمی تو نہیں ہوا تھا لیکن کار کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اسی طرح ۸؍ جون کودادر میں پلازہ سنیما کے قریب کھڑے کرین اور ٹیکسی کو ٹکر ماردی تھی جس میں ایک موٹرسائیکل سوار ہلاک اور ایک راہگیر زخمی ہوگیا تھا ۔ تیسرا حادثہ ۲۴؍ جون کو بس روٹ نمبر اے ۱۳۸؍   کے ڈرائیور کی لاپروائی کے سبب پیش آیا جب وہ قلابہ ڈپو میں داخل ہوتے وقت اس نےایک ٹیکسی کو ٹکر ماردی تھی ۔چوتھا حادثہ بھانڈوپ کے کوکن نگر میں پیش آیا جس میں ایک شخص زخمی ہوگیا تھا ۔  پانچواں حادثہ۱۰؍ جولائی کو  اندھیری میں پیش آیا تھا۔اس حادثہ میں بریک نہ لگنے کے سبب تیزرفتار بس کی ٹکر سے  ایک راہگیر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ ڈرائیور نے ۱۴؍ گاڑیوں کو ٹکر ماردی تھی ۔

بیسٹ کمیٹی کے ممبران ناراض

اس پر بیسٹ کمیٹی ممبران نے ویٹ لیزبسوں میں پائی جانے والی تکنیکی خرابیوں کے باوجود شہر کے مسافروں اور راہگیروں کی جان کی پرواہ کئے بغیر بس چلانے کی اجازت دینے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ویٹ لیز کی خامیوں پر مشتمل رپورٹ کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

’’بسوں کے ڈرائیو روں نے کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے‘‘

اس ضمن میں بیسٹ کمیٹی کے اراکین اور ملازمین کی یونینوں کا الزام ہے کہ بارہا خود ویٹ لیز  بسوں کےڈرائیوروں نے بسوں میں کئی   خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔اس تعلق سے شیو سینا (ادھو ٹھاکرے)  کے بیسٹ کمیٹی کے رکن نتن نندگاونکر نے بیسٹ انتظامیہ کو خط لکھ کر ویٹ لیز بسوں میں موجود سنگین تکنیکی خرابیوں سے آگاہ کیا تھااور اس سلسلہ میں ترتیب دی گئی رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا تھا لیکن بیسٹ انتظامیہ نے اسے نظر انداز کر دیا ۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان:کریٹ سومیا کامسجدوں میں ایس آئی آر فارم بھرنے کا بے بنیاد الزام

  بیسٹ کے رکن اجے سنگھ کا کہنا ہے کہ ویٹ لیز بسیںشہر کے مسافروں اور راہگیروں کیلئے خطرناک ہیں کیونکہ کبھی بھی حادثہ پیش آسکتاہے۔مذکورہ بسوںمیںکئی تکنیکی خرابیاں ہیں۔ ان میںاسٹیئرنگ اور بریک بھی اچانک بند پڑ جاتے ہیں ۔ یہیں نہیں ان بسوں کے ڈرائیوروں نے ایئر پریشر لیک ہونے، بریک کی کارکردگی متاثر ہونے، ایئر سسپنشن نظام   درست طریقے سے کام نہ کرنے اور خودکار دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے میں بھی کئی طرح کے تکنیکی مسائل کا ذکر کیا ہے ۔  بیسٹ کمیٹی کے ممبران نے ویٹ لیز بسوں کے تعلق سے ترتیب دی گئی رپورٹ کو عام کرنے کے علاوہ اس کا آڈٹ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK