Updated: January 14, 2026, 11:12 PM IST
| New Delhi
دہلی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے کی بنچ نےدائیں بازو کی تنظیم ’سیو انڈیا فاؤنڈیشن‘ پرسخت ناراضگی کا اظہار کیا،مفاد عامہ کی عرضی کے غلط استعمال پر سرزنش کی ،گری نگر مسجد کے خلاف عرضی دائر کی گئی تھی، فیض الٰہی مسجد معاملے میں بھی یہی تنظیم شامل تھی
دہلی کے کالکاجی میں واقع جامع مسجد کے خلاف سیوا فاؤنڈیشن نے عرضی کی
دہلی ہائی کورٹ نے دارالحکومت دہلی میں مفادعامہ کی عرضی کے نام پر مساجد اور درگاہوں کے قریب تجاوزات کا الزام عائد کرکے انہیں نشانہ بنانے والی تنظیم سیو انڈیا فاؤنڈیشن پر سخت برہمی ظاہر کی۔ چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی ڈویژن بنچ نے اس تنظیم کے ذریعہ آئے دن مساجد اور درگاہوں کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس کو پی آئی ایل کی سہولت کا غلط استعمال قرار دیا۔ چیف جسٹس نے اس تنظیم سے سخت بازپرس کی اورسوال کیا کہ آیا اسے صرف ایک ہی قسم کے تجاوزات نظر آتے ہیں؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ عدالتی عمل کا غلط استعمال ہے کیونکہ یہ تنظیم ہرہفتہ شہر میں گھوم کرکسی نہ کسی مذہبی ڈھانچہ کو دیکھ کر اس کے خلاف مفاد عامہ کی عرضی دائر کردیتی ہے۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائےنے تنظیم کی مسلم مذہبی مقامات کے تئیں شدید بدنیتی پرسوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی استفسار کیا آیا اس کے پاس معاشرے میں کرنے کیلئے کوئی دوسرا کام نہیں؟کیا اس نے کسی بیمار کی مدد کی،لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے اور بھوک سے مرنے والے لوگوں کی مدد کی؟ چیف جسٹس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواستوں کا غلط استعمال نہ کرنے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں انتہائی پریشان کن ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کالکا جی میںواقع گری نگرکی جامع مسجد کے خلاف اس تنظیم نےعرضی دائر کرکے اسے سرکاری زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی مسجد ہونے کا دعویٰ کیا تھا،جس پر عدالت نے سخت برہمی ظاہر کی۔اسی تنظیم نے پرانی دہلی کے ترکمان گیٹ پر واقع درگاہ فیض الٰہی کے اطراف میں بلڈوزر چلوایا تھا جس سے وہاں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔عدالت کا موقف دیکھتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل سنجے گھوش نے بھی عدالت سے شکایت کی یہ تنظیم محض مساجد کو نشانہ بنانے کی غرض سے مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کرتی ہیں۔انکے ساتھ وقف بورڈ کے ایڈیشنل اسٹینڈنگ کونسل ایڈوکیٹ فرحت جہاں اور فیروز اقبال خاں کے علاوہ ایڈوکیٹ عمران احمدبھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس تنظیم نے خود کہا تھا کہ ہاں ہم صرف مسجدوں کے خلاف ہی کام کرتے ہیں۔ سنجے گھوش نے کہا کہ اس تنظیم کوصرف مساجد کے ارد گرد ہی ناجائز قبضے نظر آتے ہیں، دیگر عبادت گاہوں پر اس کی نظر نہیں پڑتی۔ انھوںنے دہلی وقف بورڈ کے گزٹ کی کاپی پیش کی اور بتایا کہ یہ مسجد ۱۹۷۰ ءکے گزٹ میں درج ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل دہلی کی ایک سرکاری مذہبی کمیٹی قومی راجدھانی میں مساجد کومنہدم کرنے کیلئے کام کررہی تھی۔گرچہ اسے مذہبی کمیٹی کا نام دیا گیا تھا، لیکن اس میں ایسے متعصب افسران کو رکھا گیا تھا جو مختلف بہانوں سے شہر میں مساجد کے انہدام کو منظوری دیتے تھے۔ اب سیو انڈیا فاؤنڈیشن اور اس طرح کی دیگر دائیں بازو کی تنظیموں کا سہارا لے کر قومی راجدھانی میں مساجد اور درگاہوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ معاملہ کی اگلی سماعت ۲۱؍ جنوری کو ہوگی،لیکن کورٹ نے بدنیتی کے ساتھ کام کرنےو الی سیو انڈیا فاؤنڈیشن کے طرز عمل پر سوال اٹھا کر نہ صرف اس پر قدغن لگادی ہے بلکہ ذیلی عدالتوں کوبھی محتاط رہنے کا راستہ دکھایاہے۔