Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ایک شدت پسند کی جگہ دوسرا قابلِ قبول نہیں

Updated: March 04, 2026, 1:55 PM IST | New York

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ کشیدگی کا بدترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تہران میں دوبارہ کوئی شدت پسند قیادت برسرِاقتدار آ جائے۔

Donald Trump.Photo:PTI
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:پی ٹی آئی

  امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ کشیدگی کا بدترین نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تہران میں دوبارہ کوئی شدت پسند قیادت برسرِاقتدار آ جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جلاوطن ولی عہد رضاپہلوی  مستقبل میں سیاسی تبدیلی کے دوران ایک متبادل ہو سکتے ہیں۔
وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی بنیادی توجہ ایران کی عسکری طاقت کو کمزور کرنے پر ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ اگر موجودہ قیادت گر جاتی ہے تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ٹرمپ نے کہاکہ ’’سب سے خراب صورتِ حال یہ ہو سکتی ہے کہ ہم یہ سب کریں اور اس کے بعد کوئی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال سے بچنا ضروری ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اگر ایران میں قیادت تبدیل ہو تو وہ عام لوگوں کے لیے بہتر ثابت ہو، نہ کہ کوئی اور شدت پسند حکومت قائم ہو جائے۔انہوں نے کہاکہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہاں ایسا رہنما آئے جو ملک کو عوام کے لیے بہتر سمت میں لے جائے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ لوگ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کے پاس بھی موقع ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:میسور:شاندار تاریخ اور عمدہ محلات کا حامل شہراپنی مثال آپ ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جلاوطن ایرانی ولی عہد رضا پہلوی مستقبل میں ایران کے رہنما بن سکتے ہیں، تو ٹرمپ نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔ٹرمپ نے کہاکہ ’’ممکن ہے۔ کچھ لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں۔ تاہم ہم نے اس بارے میں زیادہ غور نہیں کیا ہے۔‘‘البتہ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے ایران کے اندر سے ہی کوئی رہنما ابھر کر سامنے آئے جو زیادہ موزوں ہو۔انہوں نے کہاکہ ’’میرا خیال ہے کہ ملک کے اندر سے آنے والا کوئی شخص زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی ایسا فرد ہو جو اس وقت ایران میں مقبول ہو، تو اس کے لیے قیادت سنبھالنا آسان ہو سکتا ہے۔‘‘ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ فوجی حملوں سے ایران کے قیادتی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’سیارہ‘‘ کے وائرل آئی وی ڈرپ کلپ پر آہان پانڈے کا ردعمل

انہوں نے کہاکہ ’’جن لوگوں کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے، ان میں سے اکثر اب مارے جا چکے ہیں۔ ہم نے اس گروہ میں سے چند افراد کے بارے میں سوچا تھا، لیکن وہ بھی مارے جا چکے ہیں۔ اب ہمارے پاس ایک اور گروہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ بھی مارے جا سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جاری فوجی حملوں کا ہدف ایران کی قیادت اور اس کا عسکری ڈھانچہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا’’ایسا لگتا ہے کہ آنے والے حملوں میں جلد ہی ایسا وقت آ سکتا ہے جب ہمیں وہاں کسی کو پہچاننا بھی مشکل ہو جائے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK