الزام تراشی کیلئے صحافتی آزادی کا جواز پیش کرنے پرکورٹ برہم

Updated: October 24, 2020, 5:00 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

سشانت سنگھ راجپوت میڈیا ٹرائل کیس میں  بامبے ہائی کورٹ کااظہار افسوس، زی نیوز کے وکیلوں  کے دلائل سننے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے صحافی غیر جانبدار اور ذمہ دار ہوا کرتے تھے مگر اب صحافت بہت زیادہ جانبدار ہوگئی ہے۔ اپنی حدود سے تجاوز کرنے پر کہا کہ لوگ بھول جاتےہیں  کہ خط فاصل کہاں کھینچنا ہے۔

Bombay High Court Photo: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

 سشانت سنگھ راجپوت کیس میں  میڈیا ٹرائل کے خلاف داخل عرضیوں  پر شنوائی کے دوران چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس گریش کلکرنی نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ اب صحافت بہت زیادہ جانبدار ہوگئی ہے۔ کورٹ میں  جب زی نیوز کی جانب سےاپنی صفائی پیش کی جارہی تھی اور میڈیا کے تعلق سے ضوابط وضع کرنے کی مخالفت کی جارہی تھی تبھی چیف جسٹس کی قیادت والی دورکنی بنچ نے اپنے زبانی مشاہدہ میں میڈیا کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ اُس وقت صحافی ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے۔ آج میڈیا بہت زیادہ جانبدار ہوگیاہے۔
 ایک بار پھر کورٹ نے میڈیا کو حد یاد دلائی
 کورٹ نے زی نیوز کے وکیل کے دلائل پر کہا کہ یہ معاملہ پابند کرنے کا نہیں  ہے بلکہ یہ احتیاط اور توازن کا معاملہ ہے۔ لوگ یہ بھول جاتےہیں کہ خط فاصل کہاں  کھینچنا ہے؟ جو کر رہے ہیں  اپنے دائرہ میں  رہ کرکریں ۔ ‘‘ کورٹ نے کہا کہ ’’اگر آپ حکومت پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو کریں  مگر یہاں  معاملہ یہ ہے کہ کوئی مر گیا ہے اور آپ (میڈیا) پر الزام ہے کہ آپ مداخلت کررہے ہیں ۔
 صحافت کی آزادی کے نام پر الزام تراشی
  کورٹ نے نیوز چینلوں   کے وکیلوں  کو متنبہ کیا کہ کیا ہندوستان میں  قانون کی حکمرانی نہیں  ہے؟ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں  کہ جو لوگ دوسروں پر الزام تراشی کررہے ہیں  وہ میڈیا کی آزادی کا سہارا لے کر بچ سکتے ہیں ؟
میڈیا کو حقیقت پسند ہونا چاہئے
  چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حقیقت پسند ہونا چاہئےنہ کہ لوگوں کے درمیان منافرت پھیلانے یا انہیں تقسیم کرنے کا کام کرنے والا۔
 ہائی کورٹ کی میڈیا کو مسلسل تنبیہ
  واضح رہے کہ سشانت سنگھ راجپوت معاملے میں  میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے خلاف داخل کی گئی پٹیشنوں  پر شنوائی کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ مسلسل میڈیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہاہے کہ اسے اپنی حدوں  سے تجاوز نہیں  کرنا چاہئے۔ 
 میڈیا ٹرائل اور نیوز روم میں  ہونے والے مباحثوں  پر کورٹ نے گزشتہ شنوائی میں  برہمی کااظہار کرتےہوئے کہاتھا کہ ’’ جب تفتیش کار بھی تم، وکیل بھی تم اور جج بھی تم ہو تو ہماری کیا ضرورت ہے۔‘‘ کورٹ نے جمعہ کو سرکاری وکیل اور دیگر فریقین کے وکلا کی جرح سننے کے بعد سماعت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھنے کا حکم جاری کرتے ہوئے شنوائی کو ملتوی کردیا ہے۔ 
  سشانت سنگھ راجپوت کیس میں   تنقیدوں کی زد پر سب سے زیادہ ارنب گوسوامی اور ان کا چینل ریپبلک ٹی وی ہے۔ 
 ارنب کی ٹیم کیخلاف ایف آئی آر
  جمعہ کو این ایم جوشی مارگ پولیس نے ریپبلک ٹی وی کی ایکزیکٹیوایڈیٹر اور رپورٹرس کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ سب انسپکٹر ششی کانت پوار نے ارنب کے ایڈیٹر اور رپورٹر پر پولیس فورس کے افسران کو ایک دوسرے کے تئیں بدظن کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ریپبلک ٹی وی کی ایکزیکٹیو ایڈیٹر ساگریکا میرا، اینکر شیوانی گپتا، ڈپٹی ایڈیٹر ساون سین، ایکزیکٹیو ایڈیٹر نرنجن نارائن سوامی اور رپورٹر نیز نیوز روم اسٹاف کے خلاف ایف آئی آر درج گئی ہے ۔   شکایت کے مطابق شکایت کنندہ آفیسر۲۲؍ اکتوبر کو شام۷؍ بجے جب ری پبلک ٹی دیکھ رہا تھا تو مذکورہ بالا ملزمین اپنے چینل کے ذریعہ ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ اور ان کے افسران کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے اور ایک دوسرے کو بد ظن کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ آفیسر کے مطابق ملزمین یہ بتانے کی بھی کوشش کررہے تھے کہ تفتیشی ٹیم میں شامل افسران پولیس کمشنر سے خوش نہیں ہیں ۔ ساتھ ہی یہ چینل نے الزام بھی لگایا کہ پولیس محکمہ میں کمشنر اور افسران کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ ریپبلک ٹی وی، اس کے ملازمین اور افسران کے خلاف یہ تیسری ایف آئی ہے - مذکورہ بالا کیس میں جرم ثابت ہونے پر۳؍ سال کی سزا ہو سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK