آکسفورڈ یونیورسٹی کا تیار کردہ کووڈ-۱۹؍ کا ٹیکہ آزمائش کے آخری مرحلے میں داخل

Updated: June 30, 2020, 6:28 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

حوصلہ افزاء نتائج پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی تعریف کی، جنوبی افریقہ میں مریضوں پر انتہائی اہم آزمائش کا آغاز، پونہ کے سیرم انسٹی ٹیوٹ نے بھی ۱۰۰؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی

Covid19 Vaccine - Pic : INN
کووڈ۱۹ ویکیسن ۔ تصویر : آئی این این

دنیا بھر میں کورونا وائرس کووڈ-۱۹؍  کے ۱۴۰؍ ٹیکوں پر کام ہورہا ہے مگر آکسفورڈ یونیورسٹی کا ٹیکہ اس معاملے میں سب سے آگے۔ آکسفورڈ ٹیکہ کے نام سے مشہور کووڈ-۱۹؍ کا یہ ٹیکہ آزمائش کے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے جس کے تحت جنوبی افریقہ میں  مریضوں پر اس کا تجربہ کیا جارہا ہے۔  تجربے کے حوصلہ افزاء نتائج کو دیکھتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نےبھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے اس ٹیکے کی تعریف کی ہے جبکہ ہندوستان میں پونہ میں واقع ٹیکہ بنانےوالی کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ اس میں ۱۰۰؍ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکی ہے۔  امید ہے کہ تمام تجربات اور آزمائش میں کامیابی کے بعد  یہ ٹیکہ اسی سال کے اواخر میں بازار میں  دستیاب ہوجائےگا۔ 
 اس وقت دنیا بھر میں کووڈ-۱۹؍ کے جن ٹیکوں پر کام ہورہا ہے ان میں ۱۳؍ پر طبی جانچ کے مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرا زینکا کے ذریعہ تیار کئے گئے ٹیکے کے علاوہ امریکہ کے ماڈرن انسٹی ٹیوٹ کاتیار کردہ  ٹیکہ سرفہرست ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن  نے ٹیکوں کے تعلق سے گفتگو کرتےہوئے آکسفورڈ کے ٹیکے سے متعلق کہا ہے کہ ’’یقینی طور پر اگر یہ دیکھیں کہ کون کتنے آگے بڑھ چکا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ وہ سب سے آگے ہیں۔‘‘سوامی ناتھن کے مطابق’’ہم جانتے ہیں کہ ماڈرنا کا تیار کردہ ٹیکہ بھی جولائی سے طبی  آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل ہوجائےگا اس لئے وہ بھی آسٹرا زینکا ( اور آکسفورڈ) کے ٹیکے سے بہت پیچھےنہیں ہے۔ مگر اس وقت آسٹرا زینکا جہاں منصوبہ بندی اور اپنے ٹیکوں کی آزمائش کررہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ان کیلئے عالمی سطح پر زیادہ امکانات موجود ہیں۔‘‘ اس بیچ  آسٹرا زینکا کےذریعہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تیار کئے گئے ٹیکے تعلق سے دسواں معاہدہ برازیل سے ہوگیاہے۔اس  نے سنیچر کو ۱۲۷؍  ملین  ڈالرکا معاہدہ کرکے برازیل میں ان ٹیکوں کی تیاری کا ٹھیکہ حاصل کرلیا ہے۔ رائٹرس کی رپورٹ کےمطابق برازیل ابتدائی طور پر ۳۰؍ ملین ٹیکے تیار کریگی جن میں سے آدھے دسمبر میں اورآدھے جنوری میں تیار ہوںگے۔
 بہرحال آسٹرا زینکا نے حال ہی میں ایک ریڈیو پیغام میں  بتایا ہے کہ ان کا تیار کردہ ٹیکہ کووڈ-۱۹؍ سے ایک سال تک کا تحفظ فراہم کریگا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ٹیکہ کے شعبے کے پروفیسر انڈریو پولارڈ  نے تیار کردہ ٹیکے کی طبی آزمائش کے تعلق سےبتایا ہے کہ ’’طبی آزمائش بہت اچھی چل رہی ہے اور اب اس تحقیق میں جٹ گئےہیں کہ یہ ٹیکہ زیادہ عمر کےلوگوں میں کس حدتک قوت مدافعت پیدا کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔‘‘ اگرحتمی مرحلے کے نتائج بھی مثبت آئے تو اسی سال کے آخر میں یہ ٹیکہ مارکیٹ میں دستیاب ہوجائے گا جس سے کورونا وائرس سےنمٹنےمیں پوری دنیا بڑی مدد ملے گی۔   امید کی جارہی ہے کہ ہندوستان میں سیرم انسٹی ٹیوٹ جولائی میں ہی ۲۰؍ سے۳۰؍ لاکھ ٹیکے تیار کرلےگا۔ کمپنی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سریش جادھو کے مطابق’’پہلے مرحلے کی طبی جانچ کے نتائج جولائی کے پہلے ہفتےمیں متوقع ہیں، ان کے مثبت آنے پر ہم پہلے مرحلے میں ۲۰؍ سے ۳۰؍ لاکھ ٹیکے تیار کرلیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK