• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’بزدلی اور آمریت‘، ’’ستلج‘‘ کے ہدایت کار ہنی تریہن نئی سینسر بورڈ گائیڈ لائنز پر برہم

Updated: November 04, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi

فلم ساز اور ہدایت کار ہنی تریہن نے مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ کی جانب سے فلموں کی منظوری کے لیے جاری کی گئی نئی ہدایات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ملک میں ’’بزدلی اور آمریت‘‘ کی عکاس قرار دیا ہے۔

Satluj And Honey Trehan.Photo:INN
ستلج اور ہری تریہن۔ تصویر:آئی این این

فلم ساز اور ہدایت کار ہنی تریہن  نے مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ (CBFC) کی جانب سے فلموں کی منظوری کے لیے جاری کی گئی نئی ہدایات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ملک میں ’’بزدلی اور آمریت‘‘ کی عکاس قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جمہوری معاشرے میں آزادیٔ اظہار کے اصولوں کے مطابق نہیں ہیں۔ فلم’’ستلج‘‘  کے ہدایت کار نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فلم سازوں کی تخلیقی آزادی اور اظہارِ رائے کے حق سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
ہنی تریہن نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا کہ نئی ہدایات ملک میں بزدلی اور آمریت کو ظاہر کرتی ہیں، نہ کہ آزادیٔ اظہار کے لیے جمہوری طرزِ عمل کو۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ان کی فلم ’ستلج‘ خود تقریباً تین برس تک سینسر بورڈ کی منظوری کے معاملے میں مشکلات کا سامنا کرتی رہی اور ریلیز کے بعد بھی تنازع کا شکار ہوگئی تھی۔ مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ نے ۲۶؍ اکتوبر کو فلم سازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی تھیں۔ یہ بورڈ کی نئی تشکیل کے بعد پہلی اہم ایڈوائزری ہے، جس میں فلموں کی سرٹیفکیشن کے طریقۂ کار سے متعلق پانچ اہم نکات واضح کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سائنسی مقالوں میں اے آئی کے فرضی حوالوں کا بڑھتا انکشاف

نئی ہدایات کے مطابق:  فلم سازوں کو سرٹیفکیشن کے لیے فلم کا مکمل اور حتمی ورژن جمع کرنا ہوگا۔  فلم میں عارضی گرافکس، نامکمل مناظر یا عارضی آواز اور موسیقی کی جگہیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔  فلم کے اعلان کردہ نام کو حتمی نہیں سمجھا جائے گا اور سنسر بورڈ اسے جانچنے کے بعد تبدیل کرنے کی سفارش کرسکتا ہے۔  فلم کی پہلے سے اعلان کردہ ریلیز کی تاریخ سرٹیفکیشن کے عمل میں ترجیح حاصل کرنے کی بنیاد نہیں بنے گی۔  ٹریلر اور تشہیری مہم کی تاریخوں کو بھی فلم کی منظوری کے عمل پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بورڈ نے فلم سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فلمیں ریلیز سے کافی پہلے سرٹیفکیشن کے لیے جمع کرائیں، تاکہ منظوری کے عمل میں تاخیر سے بچا جاسکے۔ 
ہنی تریہن کی جانب سے نئی ہدایات پر اعتراض کی ایک اہم وجہ ان کی فلم ’ستلج‘ کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ بھی ہے۔ اس فلم میں معروف پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ (Diljit Dosanjh) نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ یہ فلم سکھ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خلرا (Jaswant Singh Khalra) کی زندگی پر مبنی ہے۔ فلم کا ابتدائی نام ’گھلوگھارا‘ تھا، جسے بعد میں تبدیل کرکے ’پنجاب ۹۵‘ کردیا گیا۔ تاہم، فلم کو سینسر بورڈ سے منظوری حاصل کرنے میں طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم سازوں اور سینسر بورڈ کے درمیان فلم کے بعض مناظر اور مجوزہ تبدیلیوں پر اختلافات رہے۔ تقریباً تین برس تک سرٹیفکیشن کے معاملے میں تعطل کے بعد فلم سازوں نے اسے ۳؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو   پر’’ستلج‘‘ کے نام سے ریلیز کیا۔ تاہم، فلم ریلیز ہونے کے کچھ ہی وقت بعد پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اس معاملے میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے تھے، جبکہ فلم سازوں کا موقف اس سے مختلف رہا۔  واضح رہے کہ مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ کی تقریباً نو برس بعد نئی تشکیل عمل میں آئی ہے۔ سابق پرساد بھارتی کے چیف ایگزیکٹیو ششی شیکھر ویمپتی (Shashi Shekhar Vempati) کو بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی بیٹی ویوین نے بھی والد کا خاندانی نام قانونی طور پر ہٹا دیا

نئے بورڈ میں کئی معروف فلمی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں پریتی زنٹا، پنکج ترپاٹھی، سنیل شیٹی، پروسین جیت چٹرجی، روپالی گنگولی، منوج جوشی، پلوی جوشی، ہدایت کار پریہ درشن، موسیقار رکی کیج اور فلم پروڈیوسر سپریا یارلاگڈا شامل ہیں۔ نئے بورڈ کی تشکیل کے بعد جاری ہونے والی تازہ ہدایات نے فلمی صنعت میں سرٹیفکیشن کے طریقۂ کار، تخلیقی آزادی اور فلم سازوں کے اختیارات سے متعلق بحث کو دوبارہ تیز کردیا ہے۔ 
 ہنی تریہن کے بیان کے بعد فلمی حلقوں میں یہ سوال ایک مرتبہ پھر زیر بحث آگیا ہے کہ فلموں کی سرٹیفکیشن کے دوران انتظامی ضوابط اور تخلیقی آزادی کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھا جائے۔ فلم سازوں کے لیے فلم کی ریلیز کی منصوبہ بندی، تشہیر اور سرمایہ کاری اہم امور ہوتے ہیں، ایسے میں سرٹیفکیشن کے عمل میں غیر یقینی صورت حال ان کی منصوبہ بندی کو متاثر کرسکتی ہے۔ دوسری جانب سینسر بورڈ کا موقف ہے کہ مکمل فلم اور ضروری دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی سرٹیفکیشن کا عمل آگے بڑھایا جاسکتا ہے اور محض اعلان کردہ ریلیز تاریخ کی بنیاد پر منظوری نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح ’’ستلج‘‘ کے ہدایت کار ہنی تریہن کا تازہ بیان ہندوستانی فلم انڈسٹری میں سنسرشپ، آزادیٔ اظہار، تخلیقی حقوق اور فلموں کی سرٹیفکیشن کے ضوابط سے متعلق جاری بحث میں ایک نئی پیش رفت بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK