Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر پر کریک ڈائون ،سونم وانگ چک جبراً اسپتال منتقل

Updated: July 19, 2026, 8:38 AM IST | New Delhi

پارلیمنٹ مارچ سے قبل پولیس کی کارروائی،طبی معائنہ کے نام پر صفدر جنگ اسپتال لیجایا گیا ، وانگ چک کا بھوک ہڑتال ختم کرنے سے صاف انکار ، اہلیہ نے اسپتال کی رپورٹ پر سوال اٹھائے

Delhi Police forcibly took Sonam Wangchuck to the hospital, causing chaos at Jantar Mantar for a long time. (Photos: PTI)
دہلی پولیس سونم وانگ چک کو زبردستی اسپتال لے جاتے ہوئے۔ اس کی وجہ سے جنتر منتر پر کافی دیر تک افراتفری کا ماحول تھا ۔(تصاویر: پی ٹی آئی )

 نیٹ امتحان میں پیپر لیک اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر گزشتہ۲۰؍ روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک کو  سنیچر کو دہلی پولیس نے جنتر منتر سے زبردستی  ہٹا کر صفدر جنگ  اسپتال  منتقل کر دیا لیکن  اسپتال پہنچنے کے بعد بھی وانگ چک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے، ڈرِپ لگوانے یا کوئی مائع غذا لینے سے صاف  انکار کر دیا۔ 
 ادھر جنتر منتر پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور مظاہرین سے مقام خالی کرنے کو کہا گیا، تاہم کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے وانگ چک کی جگہ خود بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سونم وانگ چک نے ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تھا، لیکن مارچ سے۲؍ روز قبل ہی انہیں احتجاجی مقام سے ہٹا دیا گیا جس کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر سخت تنقید کی۔ دہلی پولیس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیاکہ یہ کارروائی عدالت کی ہدایات اور طبی ماہرین کے مشورہ کے مطابق وانگ چک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر کی گئی۔ پولیس کے مطابق احتجاج ختم کرانے کے بجائے ان کی جان بچانا اولین ترجیح تھی۔
 واضح رہے کہ بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی نے جون میں جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا تھا۔ چند روز بعد سونم وانگ چک نے اس تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے۲۸؍ جون سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ اس دوران پولیس نے احتجاج ختم کرانے کی کوشش کی  تاہم مظاہرہ جاری رہا اور مختلف اپوزیشن لیڈروں کی حمایت کے بعد یہ تحریک قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی۔احتجاج کے دوران پہلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا، بعد ازاں حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور امتحانی نظام پر بھی شدید تنقید کی گئی۔
  اسی دوران وانگ چک نے۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا، جس کے بعد معاملہ دہلی ہائی کورٹ بھی پہنچا۔ عدالت نے  وانگ چک کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو ان کی مناسب طبی دیکھ بھال یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی ۔صفدر جنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جاری طبی بلیٹن میں بتایا گیا کہ سونم وانگ چک نے کھانے پینے سے مکمل انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ ان کی نبض، بلڈ پریشر اور آکسیجن سیچوریشن فی الحال مستحکم ہے، تاہم جسم میں پانی کی کمی اور خون میں شوگر کی سطح کم ہو گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم انہیں مناسب طبی مشورہ دے رہی ہے۔ اسپتال پہنچنے والی سونم وانگ چک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ ان کے شوہر کو اہل خانہ کی اجازت کے بغیر منہ یا نس کے ذریعے کوئی دوا یا مائع غذا نہ دی جائے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK