نوی ممبئی ایئر پورٹ اتھاریٹی اور سڈکو اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔غیرسرکاری تنظیم نے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے میںمداخلت کی درخواست کی
EPAPER
Updated: January 23, 2023, 12:35 PM IST | shahab ansari | Navi Mumbai
نوی ممبئی ایئر پورٹ اتھاریٹی اور سڈکو اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔غیرسرکاری تنظیم نے وزیر اعلیٰ سے اس معاملے میںمداخلت کی درخواست کی
نوی ممبئی ایئر پورٹ کے تعمیراتی کام کے دوران چٹانوں کو توڑنے کیلئے طاقتور دھماکے سے آس پاس کی چند عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ان دھماکوں سے عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کی شکایتیں موصول ہونے پر ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ البتہ اس واقعہ کے بعد سے نوی ممبئی ایئر پورٹ کی تعمیر کی ذمہ دار ’نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اتھاریٹی (این ایم آئی اے ایل) ‘ اور ’سٹی انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (سڈکو)‘ دونوں نے اپنا پلہ جھاڑتے ہوئے اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے شروع کردی ہے۔
نوی ممبئی میں ماحولیات کےتحفظ کیلئے کام کرنے والے ’نیٹ کنیکٹ فائونڈیشن‘ نامی غیر سرکاری تنظیم نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے درخواست کی ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں۔ مذکورہ تنظیم کا کہنا ہے کہ کھاڑی سے قریب اور سی بی ڈی- بیلاپور نیز دیگر مقامات پر رہائش پذیر بہت سے متاثرہ افراد نے ان سے رابطہ قائم کرکے شدید دھماکوں سے زلزلے جیسی کیفیت ہونے اور مختلف عمارتوں میں دراڑیں پڑنے کی شکایتیں کی ہیں جس کے بعد تنظیم کے ذمہ داران نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ دھماکوں کی شدت اور تعداد کو کم کرنے کے لئے اعلیٰ سطحی مداخلت کریں۔
مقامی افراد کا الزام ہے کہ ایئر پورٹ کی تعمیر کے لئے ابتداء میں جو دھماکے کئے جارہے تھے، ان کی شدت اور تعداد دونوں کم تھیں اور وہ ایک حد تک قابل برداشت بھی تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے دھماکوں کی شدت اور تعداد دونوں میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے اس کے اطراف میں واقع عمارتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ تعمیر کرنے والی ایجنسیوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ سی بی ڈی - بیلاپور میں بڑی تعداد میں لوگ رہائش پذیر ہیں جن میں بوڑھے، بچے اور بیمار بھی شامل ہیں اور تھوڑی سی لاپروائی بھی ان سب کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
اطلاع کے مطابق نئے ایئر پورٹ کی تعمیر کے سلسلے میں کئے جانے والے دھماکوں کے اثرات کافی دور دراز علاقوں تک محسوس کئے جارہے ہیں اور نوی ممبئی کے سیکٹر۱۱؍ اور سیکٹر ۱۵؍ کے متعدد مکینوں نے اپنی عمارتوں کی دیواروں پر دراڑیں پڑنے کے علاوہ اپنے مکانات کی کھڑکیوں کے اطراف دراڑیں پڑنے کی شکایتیں کی ہیں۔ مکینوں کو خوف ہے کہ جس تیزی سے ان کی عمارتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس سے جلد ہی ان کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ جائیں گے یا دیگر کوئی نقصان ہوسکتا ہے۔
اس سلسلے میں ’نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اتھاریٹی (این ایم آئی اے ایل) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ سارے الزامات بے بنیاد ہیں لیکن ان کے جواب دینے کے لئے مناسب اتھاریٹی سڈکو ہے جبکہ سڈکو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سڈکو نے اپنے حصہ کی ذمہ داریاں پہلے ہی مکمل کرلی ہیں اس لئے مذکورہ الزامات کے جواب این ایم آئی اے ایل سے مانگے جانے چاہئیں۔
ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں فضائی سفر کی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے ایک اور ایئرپورٹ تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں مسافروں کی تعداد میں جس طرح اضافے کا اندازہ لگایا جارہا ہے، اس کیلئے بہتر طور پر انتظامات کئے جاسکیں۔