سپریم کورٹ نے وارننگ دی، کہا کہ ’’اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، پانی اور بجلی ملتی رہی تو لوگ کام ہی کیوں کریں گے‘‘۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 9:08 AM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے وارننگ دی، کہا کہ ’’اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، پانی اور بجلی ملتی رہی تو لوگ کام ہی کیوں کریں گے‘‘۔
سپریم کورٹ نے تمل ناڈو بجلی بورڈ کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ دراصل تمل ناڈو بجلی بورڈ صارفین کو مفت بجلی دینے کا وعدہ کر رہا ہے۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ ریاستوں میں اپنائی گئی مفت سہولیات کی ثقافت معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ جس میں چیف جسٹس سوریہ کانت سمیت دیگر جج شامل تھے، نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ریاستیں پہلے ہی خسارے میں ہیں، پھر بھی وہ ترقی کو چھوڑ کر مفت سہولیات بانٹ رہی ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ جو لوگ ادائیگی نہیں کر سکتے انہیں امداد دینا سمجھ میں آتا ہے لیکن امیر اور غریب میں فرق کئے بغیر سب کو مفت دینا یا ریوڑیاں بانٹنے کی غلط پالیسی ہے۔ اس دوران عدالت نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر صبح سے شام تک مفت کھانا، پانی، سائیکل اور بجلی ملتی رہی تو لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ کم ہو جائے گا۔
سپریم کورٹ نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ مفت چیزیں تقسیم کرنے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے پوچھا کہ ہندوستان میں ہم کیسی ثقافت بنا رہے ہیں ؟ کیا یہ ووٹ حاصل کرنے کی پالیسی نہیں بن جائے گی؟ فی الحال سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ اب اگلی سماعت میں طے ہوگا کہ ایسی مفت بجلی کے منصوبوں پر کس طرح کے قوانین نافذ ہوں گے۔ قابل ذکر ہے کہ مفت منصوبہ کا معاملہ اس لیے بڑا ہے کہ کئی ریاستوں میں انتخابات سے قبل مفت اسکیموں کا اعلان ہوتا ہے۔ اس سے سرکاری اخراجات بڑھتے ہیں اور ترقی رُک جاتی ہے۔