• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرنیل سنگھ ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے بہترین ڈیفینڈر تھے

Updated: February 20, 2026, 10:26 AM IST | New Delhi

۲۰؍فروری ۱۹۳۶ءکو پیدا ہونے والے ورسٹائل فٹبال کھلاڑی جرنیل سنگھ ہندستانی فٹبال کے بہترین ڈیفینڈرتھے۔

Fearless player Jarnail Singh. Photo: INN
بے خوف کھلاڑی جرنیل سنگھ۔ تصویر: آئی این این

۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۰ءکی دہائی کے دوران ہندوستانی فٹ بال کے سنہری دور میں ایسے کھلاڑیوں کی کمی نہیں تھی جو تکنیک کے لحاظ سے ایشیا کے کسی بھی کھلاڑی کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ ہندوستان اپنے تکنیکی معیار اور حکمت عملی کی اختراعات کے لیے مشہور تھا۔ چنی گوسوامی، پی کے بنرجی اور تلسی داس بلرام جیسے تمام شاندار باصلاحیت کھلاڑی ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے درخشاں چہرے تھے۔ ہر فٹ بال ٹیم میں ایک ایساکھلاڑی ضرور ہوتا ہے جو خاموشی سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مخالف ٹیم پر دباؤ اور تابڑ توڑ حملے کرتاہے۔ اس سنہری دور میں ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے لیے وہ شخص جرنیل سنگھ تھا۔ 
۲۰؍فروری ۱۹۳۶ءکو پیدا ہونے والے ورسٹائل فٹبال کھلاڑی جرنیل سنگھ ہندستانی فٹبال کے بہترین ڈیفینڈرتھے۔ وہ ہندوستانی فٹ بال کے جائنٹ کہلائے جاتے تھے۔ ان کی مہارت، ٹیکلنگ، سلائڈنگ ٹیکل، ان کی بروقت ٹائمنگ، والی کلیئرنس بے مثال تھا۔ وہ سینٹرل ڈیفینڈر کے طور پر کھیلتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا شمار ہندوستان کے بہترین ڈیفینڈر زمیں ہوتاہے۔ اس میں ان کا کوئی موازنہ نہیں تھا۔ جرنیل سنگھ ایشیا کے سب سے زیادہ خوفزدہ کرنےوالےڈیفینڈرکھلاڑی بھی کہے جاتے تھے۔ ان کا ہینڈلنگ، انٹرسیپشن اور مین ٹو مین مارکنگ بے مثال تھی۔ وہ ایک ایسے کھلاڑی تھے جنہوں نے اپنے مخالفین کو خوفزدہ کیا۔ 
وہ ۱۹۶۵ءسے ۱۹۶۷ءتک ہندوستان کی قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان رہے۔ انہیں ۱۹۶۴ءمیں بطور فٹ بال کھلاڑی ان کی کامیابیوں کیلئے ارجن ایوارڈسے نوازا گیا۔ انہوں نے ۱۹۶۰ء کےسمر اولمپکس میں مردوں کے ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیا۔ ۱۹۶۰ءکی دہائی میں ایشیا کے بہترین ڈیفینڈرس میں سے ایک سمجھے جانے والے جرنیل سنگھ نے اپنے کریئر کا بیشتر حصہ موہن بگان کے ساتھ گزارا۔ 
ٹیم کی کامیابی کیلئےان کی لگن اور قوت ارادی کی بہترین مثال ۱۹۶۲ءکےایشیائی کھیلوں کےفائنل کے دوران جنوبی کوریا کے خلاف ہیڈر کے ذریعے ان کا میچ جیتنے والا گول ہے۔ چوٹ لگنے کی وجہ سے کوارٹر فائنل میچ کےبعد سے جرنیل کے سر میں ۶؍ٹانکے لگے ہوئےتھے، لیکن ان کا عزم غیر متزلزل رہا اور انہوں نے سیمی فائنل اورفائنل راؤنڈ میں سر میں شدید چوٹ کے ساتھ کھیلنا جاری رکھا۔ حیرت انگیز طورپر، انہوں نے فائنل راؤنڈ میں صرف ہیڈر کے ساتھ میچ جیتنے والا گول کیا، اور ہندوستانی فٹ بال کے ہیرو بن گئے کیونکہ ہندوستانی ٹیم نے ایشین گیمز ۱۹۶۲ءمیں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ 
جرنیل سنگھ حکومت پنجاب کے کھیلوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طورپر منتخب ہوئے اور انہوں نے۱۹۸۵ء سے۱۹۹۰ءکےدرمیان کام کیا، اور۱۹۹۰ءسے۱۹۹۴ءکےدرمیان ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ انہیں تقسیم ہند کے دوران۱۳؍برس کی عمر میں قریب قریب موت کاسامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہیں زندگی میں کسی چیز کا خوف نہیں رہا۔ تاہم، جرنیل سنگھ کا ان بلندیوں تک کا سفر آسان نہ تھا۔ ان کے خاندان نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم کی ہولناکیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ ان کا بچپن ان سب پریشان کن حالات میں گزرا۔ وہ۱۳؍ اکتوبر۲۰۰۰ءکو کینیڈا کے وینکوور میں دمہ کی بیماری کی وجہ سے ۶۴؍سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK