• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجپوتوں کے دبائومیں آکر مراٹھا سلطنت کا نقشہ کتاب سے ہٹا دیا گیا؟

Updated: February 20, 2026, 10:00 AM IST | Ali Imran | Nagpur

ناگپور کے بھوسلے خاندان کے وارث مدھوجی راجے کا الزام، نقشہ ہٹانے کیلئے راجپوت خاندانوں نے این سی ای آرٹی کو خط لکھا تھا۔

Pratapgarh, a monument of the Maratha Empire. Photo: INN
مراٹھا سلطنت کی یادگار پرتاپ گڑھ۔ تصویر: آئی این این

آٹھویں جماعت کی تاریخ کی کتاب سے این سی ای آر ٹی نے یکطرفہ طور پر ۱۷۵۹ میں مراٹھا سلطنت کی وسعت کو ظاہر کرنے والے نقشے کو راجستھان کے راجپوت خاندان کے دباؤ میں آکر ہٹا دیا۔ ناگپور کے بھوسلے شاہی خاندان کے موجودہ وارث مُدھوجی راجے بھوسلے نے یہ الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ این سی ای آر ٹی کی کتاب سے ہٹائے گئے نقشے کو دوبارہ شامل کیا جائے۔ وہ شیواجی مہاراج جینتی ۲۰۲۶ کے موقع پر ناگپور میں منعقدہ ایک پروگرام میں بول رہے تھے۔ 
اس نقشے کے پیچھے اصل تنازعہ کیا ہے؟ 
۱۷۵۹ میں ’کٹک سے اٹک‘ تک مراٹھا سلطنت کی وسعت کو ظاہر کرنے والا نقشہ این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب میں چھاپا گیا تھا۔ تاہم راجستھان کے کچھ شاہی خاندانوں اور راجپوت تنظیموں نے نقشہ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ نقشہ غلط ہے اور نقشے میں دکھائے گئے راجستھان کے کچھ حصوں پر مرہٹوں کی حکومت نہیں تھی۔ راجستھان کے کچھ شاہی خاندانوں اور عوامی نمائندوں نے کتاب سے متعلقہ نقشے کو ہٹانے کیلئے مرکزی حکومت سے درخواست کی تھی۔ پورے تنازع کو دیکھتے ہوئے، این سی ای آر ٹی نے تعلیمی سال ۲۶۔ ۲۰۲۵ء کیلئے شائع کی گئی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب سے مذکورہ نقشہ کو ہٹا دیا۔ 
اس دوران مہاراشٹر کے کچھ نوجوانوں نے اس سلسلے میں ایک آر ٹی آئی درخواست دائر کی، جس میں این سی ای آر ٹی نے بھی اعتراف کیا کہ نقشہ ہٹا دیا گیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس نقشے کو کتاب سے ہٹانے کیلئے جو کمیٹی کام کر رہی تھی اس میں مہاراشٹر کا ایک بھی معتبر مورخ شامل نہیں تھا۔ سینئر مراٹھی تاریخ دان گجانن بھاسکر مہیندلے کی موت کے بعد این سی ای آر ٹی کمیٹی میں کسی بھی مراٹھی داں مورخ کو مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ مغلوں نے اپنی سلطنت کو احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے بچانے کیلئے راجستھان کے کچھ حصے مرہٹوں کی حفاظت میں دے دیئے تھے۔ اس سلسلے میں مغلوں نے مرہٹوں کے ساتھ ’’احمدیہ معاہدہ‘‘ کیا تھا۔ مُدھوجی راجہ بھوسلے نے الزام لگایا کہ این سی ای آر ٹی نے اس معاہدے کو بھی نظر انداز کیا ہے۔ جبکہ مراٹھا سلطنت کٹک سے اٹک تک پھیلی ہوئی تھی، اگر راجستھان کا حصہ مرہٹوں کے زیر انتظام نہیں تھا، تو مراٹھے مہاراشٹر سے اٹک تک کیسے پہنچے؟ 
اس پورے تنازع کے تناظر میں مدھوجی راجہ بھوسلے نے یہ سوال کیا ہے۔ کتاب سے نقشہ ہٹانا، جس میں مراٹھا سلطنت کی اصل حد اور اس تاریخی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ مرہٹہ سلطنت ’کٹک سے اٹک تک‘ تک پھیلی ہوئی ہے، تاریخی حقائق سے چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے۔ مُدھوجی راجہ بھوسلے نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت اور عوامی نمائندے فوری طور پر اس مسئلے کو اٹھائیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ مراٹھا سلطنت کی شان کو تاریخ کی کتابوں میں نقشہ کی شکل میں دوبارہ شائع کیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK