مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن (ریاستی بورڈ) کے ذریعہ منعقدہ ۱۲؍ویں جماعت کے امتحانات میں اب تک بڑے پیمانے پر( اجتماعی) نقل کے۶؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 9:55 AM IST | Pune
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن (ریاستی بورڈ) کے ذریعہ منعقدہ ۱۲؍ویں جماعت کے امتحانات میں اب تک بڑے پیمانے پر( اجتماعی) نقل کے۶؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن (ریاستی بورڈ) کے ذریعہ منعقدہ ۱۲؍ویں جماعت کے امتحانات میں اب تک بڑے پیمانے پر( اجتماعی) نقل کے۶؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ان معاملات میں ۳۱؍افراد کو معطل کیا گیا ہے۔ اس تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ۱۲؍ ویں جماعت کا امتحان ریاست کے ۳؍ ہزار ۳۸۷؍ مرکزی امتحانی مراکز پر لیا جا رہا ہے۔ ان میں سے تقریباً ۹۵؍ فیصد امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی نصب ہیں۔ جبکہ سی سی ٹی وی کے بغیر ۱۷۲؍ امتحانی مراکز کے عملے کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ریاستی بورڈ نے ۱۲؍ویں جماعت کے امتحان میں نقل اور بددیانتی کو روکنے کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ اب تک ۱۰۹؍معاملات کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے اورنگ آباد ڈیویژنل بورڈ کے تحت ۵؍ امتحانی مراکز اور امراوتی ڈیویژنل بورڈ کے ایک امتحانی مراکز میں بڑے پیمانے پر نقل کے ۵؍ معاملے سامنے آئے ہیں۔ طلبہ کو اجتماعی طور پر نقل کروانے کے الزام میں ان اسکولوں میں تعینات عملے کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ بیشتر کومعطل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق اورنگ آباد ڈیویژنل بورڈ کے تحت بیڑ ضلع کے چوسالہ میں آرٹس اینڈ سائنس جونیئر کالج کے معاملے میں ۷؍ ملازمین کو معطل کیا گیا ہے، کنڑ تعلقہ کے جیتا پور میں نیشنل ہائیر سیکنڈری اسکول کے معاملے میں ۱۸؍ ملازمین، جالنہ ضلع کے روہیلا گڑھ میں جمبوونت ہائیر سیکنڈری اسکول، چھترپتی ہائیر سیکنڈری اسکول، میں ۶؍ ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ انکش نگر میں شیواجی نگر ہائر سیکنڈری اسکول۔ دریں اثنا، امراوتی ڈویژنل بورڈ کے تحت ضلع واشم کے شری میناگیری مہاراج ودیالیہ اور جونیئر کالج کے معاملے میں ۲۶؍ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، ریاستی بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نند کمار بیڈسے نے بتایا۔
امراوتی میں سب سے زیادہ نقل کے معاملے
اب تک ظاہر کئے گئے اعداد وشمار کےمطابق ریاست میں سب سے زیادہ نقل کے معاملے میں امراوتی میں درج کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ریاست میں نقل کے ۱۰۹؍ معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سب سے زیادہ ۵۰؍ معاملے امراوتی کے ہیں۔ اس کے بعد پونے کا نمبر ہے جہاں نقل کے ۲۷؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔ لاتور اور ناگپور میں ۱۱۔ ۱۱؍ معاملے درج کئے گئے ہیں۔ اورنگ آباد میں ۶؍ اور ناسک میں ۴؍ معاملے سامنے آئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے ممبئی، کوکن اور کولہاپور بورڈ میں نقل کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ریاستی بورڈ کے صدر نند کمار بیڈسے کا کہنا ہے کہ جن طلبہ کو نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے ان کے پرچوں کو متعلقہ ڈیویژنل بورڈ میں جمع کروادیا گیاہے جہاں ہر ایک پرچے کی باریکی سے جانچ ہوگی۔ اگر ان میں نقل کی تصدیق ہوئی تو ڈیویژنل بورڈ کے چیئرمین ان طلبہ پر کارروائی کے تعلق سے فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان طلبہ پر کس طرح کی کارروائی کی جائے گی۔ عام طور پر نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے طلبہ کے آئندہ ۳؍ سال تک امتحان دینے پرپابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ۲۳؍ فروری سے ایس ایس سی یعنی ۱۰؍ ویں کے امتحانات بھی شروع ہونے جا رہے ہیں جس کی تیاریاں جاری ہیں۔