Inquilab Logo

قومی حقوق انسانی کمیشن کے اعتبار پر سوالیہ نشان !

Updated: May 16, 2024, 10:54 AM IST | New Dehli

گلوبل الائنس فور نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے ہندوستان کےاین ایچ آر سی کو مسلسل دوسرے سال منظوری نہ دئیے جانے کو کانگریس لیڈر چدمبرم نے شرمناک قراردیا، حقوق انسانی کے دیگر رضاکاروں نے بھی کہا کہ قومی حقوق انسانی کمیشن کی کارکردگی اِدھر کئی سال سے زوال پذیر ہے۔

Headquarters of the National Human Rights Commission. Photo: INN.
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کا صدر دفتر۔ تصویر: آئی این این۔

گلوبل الائنس فور نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز (جی اے این ایچ آر آئی ) کی جانب سے ہندوستان کے قومی انسانی حقوق کمیشن(این ایچ آر سی) کو مسلسل دوسرے سال منظوری نہ دئیے جانے پرکانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم او ر حقوق انسانی کے دیگررضاکاروں نے سوال اٹھائے ہیں۔ جی اے این ایچ آرآئی اپنی تحقیق میں اس نتیجےپر پہنچا ہےکہ ہندوستان میں قومی حقوق انسانی کمیشن بین الاقوامی معیار کو برقرار نہیں رکھ سکا اورآزادانہ نیزحکومت کی مداخلت کے بغیر کارروائی انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔ سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے اسے افسوسناک اورشرمناک قراردیتے ہوئے کہاہےکہ عالمی ادارہ کا یہ اقدام این ایچ آرسی اور مرکزی حکومت کیلئےسرزنش ہے۔ واضح رہے کہ مسلسل دوسرے سال جی اے این ایچ آر آئی نےاین ایچ آر سی کی یہ منظوری رد کی ہے۔ اس سے قبل ۲۰۲۳ء میں یہ منظوری رد کی گئی تھی اور اب ۲۰۲۴ء میں بھی رد کر دی گئی۔ 
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس ‘ پراپنی ایک پوسٹ میں چدمبرم نے لکھا ’’ یہ قابل ا فسوس اور شرمناک ہےکہ جی اے این ایچ آر آئی نے قومی حقوق انسانی کمیشن کی منظوری منسوخ کی ہے۔ یہ لگاتار دوسرے سال ہوا ہے۔ اس اقدام میں یہ این ایچ آر سی اورحکومت کیلئے سرزنش ہے۔ 
ایک رپورٹ کے مطابق قومی حقوق انسانی کمیشن کی منظوری مستردکرنے کا فیصلہ عالمی ادارہ کی سب کمیٹی آن ایکریڈیٹیشن (ایس سی اے ) نےیکم مئی کو کیا تھا اوراس سلسلے میں منعقدہ میٹنگ میں نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، ہونڈوراس اور یونان کے نمائندے موجودتھے۔ واضح رہے کہ اس فیصلے سے حقوق انسانی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ا ور کچھ عالمی اداروں میں ہندوستان کے ووٹ دینے کی اہلیت پر اثر پڑسکتا ہے۔ 
دوسری جانب جی اے این ایچ آر آئی کے اس فیصلے کے تعلق سے یہاں ملک میں حقوق انسانی کے رضاکاروں کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ انہیں اس فیصلے سے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ بات ان کے مشاہدہ میں تھی کہ قومی حقوق انسانی کمیشن کے کام کاج کے طریقوں میں ادھر کئی برسوں سے زوال آیا ہے۔ انہوں نے حقوق انسانی کے تحفظ سے متعلق ترمیمی بل (۲۰۱۹ء )کو اس سمت میں اہم موڑ قراردیا۔ اس بل کے تحت سپریم کورٹ کے سا بق جج ارون کمار مشرا کو ۲۰۲۱ء میں این ایچ آر سی کا چیئرپرسن بنایاگیا تھاجنہوں نے وزیراعظم مودی کی تعریف کی تھی اورانہیں ’دواندیش ‘لیڈر کہا تھا۔ 
اس تعلق سے قومی حقوق انسانی کمیشن کی سابق اسپیشل مانیٹر ماجا دارووالا نے دی پرنٹ سے گفتگومیں کہا کہ ’’ یہاں کوئی سوال ہی نہیں ہےکہ ہمارے ملک کاقومی حقوق انسانی کمیشن جوبین الاقوامی حیثیت کا حامل ہےاوراسے اول درجہ سے کم کبھی نہیں سمجھا گیا، لیکن اب جی اے این ایچ آر آئی کے مشاہدہ کے مطابق بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اتررہا ہے۔ یہ واقعی گہری تشویش کا موضوع ہے۔ ‘‘
ابھی یہ واضح نہیں ہےکہ این ایچ آر سی جی اے این ایچ آر آئی کے اس فیصلے پرنظر ثانی کی اپیل کرے گا یا نہیں۔ بتایا جارہاہےکہ جی اے این ایچ آر آئی جون کے پہلے ہفتے میں اپنے اس فیصلے کا عوامی طورپر اعلان کرےگا اورمنظوری نہ دینے کےاس فیصلے کواین ایچ آر سی ۲۸؍ دن کے اندرچیلنج کرسکتا ہے۔ 
ملک کی شمال مشرقی ریاست سے تعلق رکھنے وا لے حقوق انسانی کے رضاکارنے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پربتایاکہ ’’ این ایچ آر سی کو برسوں ’اے ‘اسٹیٹس حاصل رہا ہے لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ این ایچ آر سی اگر جی اے این ایچ آر آئی کے اس فیصلے کوچیلنج نہیں کرتا تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ وہ عالمی ادارہ کواس لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں دینا چاہتا کہ وہ ملک میں انسانی حقوق کے معاملے پرکوئی بات کہے۔ اس سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ این ایچ آر سی، عالمی ادارہ کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔ ‘‘
این ایچ آر سی میں ۲۰؍ سال کام کرنے والے ایک سابق کارکن نے کہا ’’ چاہے شفافیت میں کمی کا معاملہ ہو یاکسی معاملے کو گوناگوں پہلو سے دیکھنے کا، این ایچ آر سی کی کارکردگی میں مودی حکومت کی پہلی میعادمیں ہی زوال آنا شروع ہوا اورصو رتحال حقوق انسانی کے تحفظ سے متعلق قانون میں ترمیم کے بعد بد تر ہوگئی۔ ایک مسئلہ تربیت یافتہ اورتجربہ کار اسٹاف کی کمی کا بھی ہے جوزیادہ ترکنٹریکٹ بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ ‘‘جی اے این ایچ آر آئی کے اس فیصلے کی بنیاد پرقومی حقوق انسانی کمیشن پرتنقید کرنے وا لوں کا یہ بھی کہنا ہےکہ بلقیس بانوکےمجرموں کی رہائی کے وقت کمیشن کی خاموشی افسوسناک تھی جبکہ کچھ کا ایسا بھی کہنا ہےکہ ادارہ نےگزشتہ سال جولائی میں مغربی بنگال کے پنچایتی انتخابات میں تشدد میں ۳۰؍ افراد کی موت اور دیگر معاملوں میں کارروائی کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK