اترپردیش کے سنبھل ضلع میں عید سے قبل منعقد ہونے والی امن کمیٹی کی ایک میٹنگ میں پولیس افسر کے متنازع بیانات کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ حکام نے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 4:06 PM IST | Sambhal
اترپردیش کے سنبھل ضلع میں عید سے قبل منعقد ہونے والی امن کمیٹی کی ایک میٹنگ میں پولیس افسر کے متنازع بیانات کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ حکام نے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
اترپردیش کے سنبھل ضلع میں عیدالفطر اور الوداع جمعہ سے پہلے منعقد ہونے والی ایک امن کمیٹی میٹنگ کے دوران پولیس افسر کے متنازع تبصرے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بیان سنبھل کے سرکل آفیسر کلدیپ کمار نے ضلع کے اسمولی علاقے میں ہونے والی میٹنگ کے دوران دیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیوز کے مطابق کلدیپ کمار نے کہا کہ بعض لوگ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے بارے میں حد سے زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں اور اگر کوئی شخص ایران، اسرائیل یا کسی دوسرے ملک کے تنازع کے حوالے سے نعرے بازی یا احتجاج کرتا ہے جس سے مقامی امن و امان متاثر ہو تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کرے گی۔
Breaking: Sambhal SP Krishan Bishnoi seeks explanation from CO Kuldeep Kumar over his controversial statements to Muslim residents during a peace meeting. https://t.co/MNAwh7e9Cy
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) March 13, 2026
ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ اگر کسی کو ایران اسرائیل جنگ کے بارے میں بہت زیادہ فکر ہے تو وہ وہاں جا کر اس مسئلے میں حصہ لے سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عید کی نماز کے دوران کسی قسم کی نعرے بازی، احتجاجی پوسٹرز یا بینرز لگائے گئے یا امن و امان متاثر ہوا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ اگر مساجد میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نماز ادا کریں گے تو پولیس مقدمات درج کر سکتی ہے۔
Meanwhile, On March 5th, Meerut police led by SSP Avinash Pandey smeared in colour were seen patrolling streets a day after the festival when cops celebrate Holi. pic.twitter.com/YEX3GUC73R https://t.co/OH12170oyq
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) March 13, 2026
انہوں نے کہا کہ ’’اگر مسجد میں جگہ نہیں ہوگی اور لوگ سڑک پر نماز پڑھنا شروع کریں گے تو ہم ایک لمحے کے لیے برداشت کر سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد مقدمہ درج ہوگا اور ذمہ دار افراد کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مسائل کو مقامی امن و امان پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے الفاظ میں ’’ہم ہندوستانی ہیں اور بین الاقوامی تنازعات حکومتوں کا معاملہ ہیں۔ اگر کسی دوسرے ملک کا تنازع ہمارے علاقے کے امن کو متاثر کرے گا تو پولیس کارروائی کرے گی۔‘‘
Meerut, Uttar Pradesh: SSP Avinash Pandey says, "...Prayers will not be allowed on roads. Strict action, including passport cancellation and whatever possible legal action can be taken, will be initiated against violators..." pic.twitter.com/MevTzudTNd
— IANS (@ians_india) March 13, 2026
اسد الدین اویسی اور عمران پرتاپ گڑھی کا رد عمل
یہ بیان سامنے آنے کے بعد اپوزیشن لیڈروں اور سماجی کارکنوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے افسر کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا،’’یہ ملک کسی افسر کے والد کی جاگیر نہیں ہے۔ ہر شہری کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر اسرائیل کے حق میں مظاہروں کی اجازت دی جاتی ہے لیکن مسلمانوں کو ایران کے معاملے پر اظہارِ رائے سے روکا جاتا ہے۔
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے بھی اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ امن کمیٹی کی میٹنگ کا مقصد دھمکیاں دینا نہیں بلکہ بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ جمہوری ملک ہے اور اس طرح کی زبان قابل قبول نہیں۔ افسران کو شہریوں کے آئینی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘
اسی معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم کے اترپردیش صدر شوکت علی نے بھی پولیس افسر کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کی زبان مسلم کمیونٹی کو خوفزدہ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی غیر آئینی کام کرتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج کریں، لیکن امن کمیٹی کی میٹنگ میں مسلمانوں کو دھمکیاں دینا درست نہیں۔‘‘
“This is not your father’s land”: Owaisi slams Sambhal DSP over ‘Chale Jao Iran’ remarkhttps://t.co/6UConAaalD
— Maktoob (@MaktoobMedia) March 13, 2026
میرٹھ میں تنازع
اسی دوران میرٹھ میں ایک اور تنازع اس وقت پیدا ہوا جب سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش پانڈے نے اعلان کیا کہ عید کے موقع پر عوامی سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں پاسپورٹ منسوخی جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے ایک پرانا ویڈیو شیئر کیا جس میں پولیس افسران کو ہولی کے موقع پر سڑکوں پر جشن مناتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد ناقدین نے الزام لگایا کہ مختلف مذہبی تقریبات کے لیے مختلف معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ ادھر سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن بشنوئی نے اس معاملے پر سرکل آفیسر کلدیپ کمار سے وضاحت طلب کی ہے۔ تاہم اب تک سنبھل پولیس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔