Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا دعویٰ، ایران مشرق وسطیٰ پر تسلط چاہتا تھا

Updated: March 14, 2026, 5:08 PM IST | Tehran

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران دونوں فریقوں کی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی قربانی قرار دیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ پر تسلط قائم کرنا چاہتا تھا اور اس کا اسرائیل کو ’’مٹانے‘‘ کا منصوبہ تھا

Ayatullah Mojtaba Khamenei (right), Ali Khamenei (left). Photo: INN
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای(دائیں)، علی خامنہ ای( بائیں)۔ تصویر: آئی این این

(۱) میرے والد رمضان کی دسویں صبح قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے: آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای رمضان المبارک کی دسویں تاریخ کی صبح قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے والد قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے جب دشمن کے حملے میں انہیں شہادت نصیب ہوئی۔‘‘ ان کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری ایرانی قوم کیلئے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے والد نے اپنی زندگی اسلام اور ایران کی خدمت کیلئے وقف کر دی تھی اور ان کی شہادت ہمیں مزید مضبوط بنائے گی۔‘‘ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ملک کی خودمختاری اور سلامتی کا دفاع جاری رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل۔ ایران جنگ کے دو ہفتے مکمل، لڑائی جاری

(۲) ٹرمپ کا دعویٰ، ایران مشرق وسطیٰ پر تسلط چاہتا تھا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ پر تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کا اسرائیل کو ’’مٹانے‘‘ کا منصوبہ تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ایران کی یہ خواہش تھی کہ وہ پورے مشرق وسطیٰ پر غلبہ حاصل کرے اور اسرائیل کو نقشے سے مٹا دے، لیکن اب وہ منصوبہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے اس مبینہ منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’’ہم نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔‘‘ ٹرمپ کے اس بیان پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکہ کی سخت پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK