میراروڈ میں منشیات کے کاروبار کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ

Updated: September 15, 2020, 7:58 AM IST | Kazim Shaikh | Mira Road

ڈرگس کیلئے نوجوان نہ صرف اپنے گھروں میں بلکہ دوسروں کے گھروںاور دکانوں میں بھی نقب زنی کر رہے ہیں

Drugs
نشہ مخالف بیداری مہم کا بھی نوجوانوں پر اثر نہیں ہو رہا ہے

یہاں میراروڈ اور بھائندر کے علاقے میں نشے کا کاروبار بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور نشے کا استعمال کرنے والوں کی وجہ سے علاقے میں بڑے پیمانے پر جرائم  کا بھی  اضافہ ہورہا ہے ۔ ۲؍ روز قبل پولیس نے ایسے ۲؍  نوجوانوں کو گرفتار کیا  ہے جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈرگس خریدنے کیلئے دکانوں میںنقب زنی کرنے کی کوشش کی تھی ۔واضح رہے کہ اس سے قبل علاقے میں منشیات پر قابو پانے اور اس کی روک تھام کیلئے  میراروڈ کے علاقے میں مہم چلائی گئی تھی لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ آج بھی میراروڈ کے علاقے میں کھلے عام بیٹھ کر نوجوان منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور اگر کسی نے انھیں منع اور روکنے کی کوشش کی تو نشہ کرنے والے افراد مارپیٹ پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ 
 میراروڈ میں مقیم موومنٹ فار ہیومن ویلفیئر مہاراشٹر کے صدر ڈاکٹر عظیم الدین نے کہا کہ میراروڈ میں مقامی تنظیموں کی مدد سے منشیات کی روک تھام کیلئے مہم چلائی گئی تھی۔ مہم کے دوران اس کا اثر  دکھائی دیا تھا اور لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں منشیات کا کاروبار کم نظر آیا لیکن دھیرے دھیرے ایک بار پھر میراروڈ کے تقریباً تمام علاقوں میں منشیات کا کاروباربڑھنے لگاہے ۔انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ منشیات کے عادی افراد  نشہ کرنے کیلئے پہلے اپنے گھروں میں چوری کرتے ہیں اور جب وہاں سے ناکام ہوتے ہیں تووہ دوسروں کے گھروں میں چوریاں کرتے ہیں ۔ راہ گیروں کے گلے سے سونے کی چین اور موبائل فون وغیرہ  چھین کردوسرے علاقوں میں جاکر  اونے پونے دام میں فروخت کرکے نشہ کرتے ہیں ۔ 
 ڈاکٹر عظیم الدین کاالزام ہے کہ منشیات فروخت کرنے والے اکثر وبیشتر پولیس کے خبری ہوتے ہیں اور انھیں پولیس کی پشت پناہی کے علاوہ سیاسی لیڈران بھی ان کی مدد کرتے ہیں ۔ کیوں کہ انھیں الیکشن اور دیگر مواقع پر ایسے لوگوں سے کام بھی لینا ہوتا ہے ۔ 
 میرارو ڈ میں رہنے والی انگیتا جوشی کا کہنا ہے کہ ان کی بلڈنگ کے باہر اور آس پاس کے علاقوں میں ڈرگس نہ صرف استعمال ہوتا ہے بلکہ فروخت بھی کیا جاتا ہے ۔ نشہ کرنے والوں کو اگر کوئی روکتا ہے اور علاقے سے جانے کیلئے کہتا ہے تو نشہ کے عادی افراد  واچ مین اور روکنے والوں سے مارپیٹ بھی کرتے ہیں ۔  میراروڈ سے کمل مینا ئی کا دعویٰ ہے ڈرگس استعمال کرنے والے نوجوانوں کو جب گھر سے  پیسے نہیں ملتے ہیںتو   وہ نشہ کرنے کیلئے علاقے میں  چوری کرتے ہیں ۔  ان کا دعویٰ ہے کہ  منشیات کے خلاف یہاں اس سے قبل بڑے پیمانے پر بیداری مہم کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ کاروبار اتنے اندر تک پھیل گیا ہے کہ اس کو روکنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور  ہے ۔ 
 میراروڈ پولیس اسٹیشن کے ایک انسپکٹر نے بتایا کہ جمعہ کو میراروڈ کے سلور پارک میں  سونے چاندی  اور ایک موبائل فون کی دکان میں رات کو تقریباً ساڑھے ۳؍بجے ۲؍ نوجوان دکانوںکے  شٹر توڑ تے ہوئے سی سی کیمرے میں قید ہوئے تھے ۔ ویڈیو کو دیکھتے ہوئے پولیس کو یقین ہوگیا تھا کہ  ملزمین کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بہرحال پولیس اسٹیشن میں شکایت درج ہونے کے بعد سی سی کیمرے کی مدد سے پکڑکر  تحقیقات کی توپولیس کو معلوم ہوا کہ نوجوان نشے کے عادی ہیں اور نشہ کرنے کیلئے انھوں نے دکان میں گھس کر چوری کرنے کی کوشش کی تھی ۔ دونوں پکڑے گئے نوجوان بڑے تاجروں کے بیٹے ہیں ۔انسپکٹر نے بتایا کہ کئی ماہ قبل کوکن زون کے آئی جی نول بجاج کے ذریعہ میراروڈ کے علاقے میں مقامی تنظیموں کی مدد سے پولیس نے منشیات کے خلاف مہم چلائی  تھی  جس میں جگہ جگہ منشیات فروخت کرنے والے اور اس کا استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی  ہوئی تھی ۔پولیس انسپکٹر کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی مدد سے پہلے میراروڈ پولیس اسٹیشن کے قریب اس سلسلے میں کاؤنسلنگ سینٹر بھی بنایا گیا تھا اور اس کے ذریعہ نشہ کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ اب یہ  سینٹر میراروڈ ریلوے اسٹیشن کے باہر اسکائی واک کے نیچے منتقل کردیا گیا ہے اور اس میں لاک ڈاؤن سے پہلے تک اتوار کو کئی ڈاکٹر اپنی خدمات پیش کرتے تھے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK