Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیم کے معمار اور سابق گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا ۹۰؍ برس کی عمر انتقال

Updated: August 04, 2026, 1:18 PM IST | Mumbai

معروف ماہرِ تعلیم، پدم شری اعزاز یافتہ اور بہار، تریپورہ اور مغربی بنگال کے سابق گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل (دنیاندیو یشونت راؤ پاٹل) مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر ۹۰؍  برس تھی۔ وہ ڈی وائی پاٹل گروپ کے بانی تھے، جس کے تحت ملک بھر میں ۱۵۰؍ سے زائد تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ ان کے انتقال پر سیاسی، تعلیمی اور سماجی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

Dr. DY Patil. Photo: X
ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل۔ تصویر: ایکس

ہندوستان کے ممتاز ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن، پدم شری اعزاز یافتہ اور بہار، تریپورہ اور مغربی بنگال کے سابق گورنر ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل منگل کو مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں انتقال کر گئے۔ وہ ۹۰؍  برس کے تھے اور کافی عرصے سے علیل تھے۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق انہوں نے اپنی رہائش گاہ قصبہ باوڑہ میں آخری سانس لی۔ آخری رسومات سے متعلق تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو کولہاپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز مہاراشٹر اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے کیا، تاہم بعد میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ تعلیم، سماجی خدمت اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے وقف کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ مستقبل میں جنگیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جائیں گی‘‘

وہ ڈی وائی پاٹل گروپ کے بانی تھے، جو آج ملک کے بڑے نجی تعلیمی نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔ اس گروپ کے تحت ۱۵۰؍  سے زائد تعلیمی ادارے، جن میں اسکول، انجینئرنگ، میڈیکل، ڈینٹل، مینجمنٹ اور دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہیں، ممبئی، نوی ممبئی، پونے اور کولہاپور سمیت مختلف شہروں میں قائم ہیں۔ ڈاکٹر پاٹل نے ۲۷؍ نومبر ۲۰۰۹ء سے ۲۱؍ مارچ ۲۰۱۳ء تک تریپورہ کے گورنر کی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس کے بعد ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۳ء سے ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۴ء تک وہ بہار کے گورنر رہے، جبکہ جولائی ۲۰۱۴ء میں مختصر مدت کے لیے انہیں مغربی بنگال کے گورنر کا اضافی چارج بھی سونپا گیا تھا۔ 

تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں ۱۹۹۱ء میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔ بعد ازاں ۲۰۱۸ء میں انہوں نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں شمولیت اختیار کی، جبکہ اس سے قبل وہ طویل عرصے تک کانگریس سے وابستہ رہے تھے۔ ان کے انتقال پر مختلف سیاسی اور تعلیمی شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا۔ کانگریس کے رہنما ڈاکٹر نتن راؤت نے ایکس پر لکھا کہ ’’تعلیمی شعبے نے آج اپنا ایک وژنری معمار کھو دیا ہے۔ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کا انتقال تعلیم، سماجی خدمت اور عوامی زندگی کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ ان کا کام آنے والی کئی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: مردم شماری میں او بی سی کیلئے علاحدہ کالم شامل کرنے کا مطالبہ

تریپورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے بھی تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل ممتاز ماہرِ تعلیم، تریپورہ اور بہار کے سابق گورنر، بصیرت رکھنے والے ادارہ ساز، مخیر شخصیت اور انتہائی محترم عوامی لیڈر تھے۔ تعلیم، صحت اور عوامی خدمت کے شعبوں میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی روح کو ابدی سکون نصیب ہو۔ اوم شانتی۔‘‘ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کو ہندوستان میں نجی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے قائم کردہ اداروں سے لاکھوں طلبہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جبکہ صحت، کھیل اور سماجی خدمت کے شعبوں میں بھی ان کے ادارے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے انتقال کو تعلیمی دنیا کے لیے ایک بڑے نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK