عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ۲۰۲۷ء تک کم ہوکر اوسطاً ۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں بہتری، عالمی پیداوار میں اضافہ اور طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 7:09 PM IST | Mumbai
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ۲۰۲۷ء تک کم ہوکر اوسطاً ۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں بہتری، عالمی پیداوار میں اضافہ اور طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ۲۰۲۷ء تک کم ہوکر اوسطاً ۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں بہتری، عالمی پیداوار میں اضافہ اور طلب کے مقابلے میں رسد بڑھنے کے امکانات شامل ہیں۔ سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس کی ایک تازہ رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں دوبارہ شدت آنے سے تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔
گولڈمین ساخس نے اپنے قلیل مدتی تخمینوں میں تبدیلی کرتے ہوئے دسمبر۲۰۲۶ء میں عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت ۹۰؍ ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تخمینہ ۸۵؍ ڈالر فی بیرل تھا۔ دوسری جانب، بینک کو توقع ہے کہ ۲۰۲۷ء کے دوران برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت ۸۰؍ ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہ سکتی ہے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد عالمی تیل منڈی میں رسد کی صورتِ حال بہتر ہونے اور طلب کی رفتار نسبتاً کمزور رہنے کے امکانات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں بہتری، خلیج فارس سے باہر تیل کی پیداوار میں اضافہ اور عالمی طلب میں کمی کے باعث تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی قلت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ تنازع اور نقل و حمل سے متعلق مشکلات کے باوجود تیل برآمد کرنے والے ممالک نے اپنے نظام کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا اور ترسیل کی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ستمبر کے اختتام تک خلیج فارس سے تیل کی برآمدات دوبارہ ۲۰۲۵ء کی اوسط سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ تاہم، رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، فوری ترسیل کے لیے دستیاب فزیکل برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۳۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں برینٹ فیوچرز بھی حال ہی میں ۱۰۰؍ڈالر فی بیرل سے اوپر کاروبار کرتے رہے ہیں۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ فوری طور پر تیل حاصل کرنے کی لاگت مستقبل کی ترسیل کے معاہدوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دبئی میں کپل شرما کے کیفے کی دھوم، مسالہ چائے ۵۰۰؍ اور پانی پوری ۸۰۰؍ روپے
گولڈمین ساخس کے اندازے کے مطابق، ستمبر میں عالمی تیل منڈی تقریباً متوازن ہوگئی تھی اور طلب، رسد سے صرف ۳۰؍لاکھ نہیں بلکہ ۳؍ لاکھ بیرل یومیہ زیادہ تھی۔ اس کے برعکس مارچ میں طلب اور رسد کے درمیان فرق ۷۲؍ لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گیا تھا۔ اس طرح چند ماہ کے دوران تیل کی فراہمی کی صورتِ حال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ۲۰۲۶ء کی آخری سہ ماہی میں عالمی تیل منڈی میں رسد طلب سے بڑھ سکتی ہے اور ۲۰۲۷ء میں بھی یہ اضافی رسد برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا تو تیل کی قیمتوں پر نیچے کی جانب دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، اس پیش گوئی کا انحصار مشرقِ وسطیٰ میں حالات، برآمدات کے تسلسل اور عالمی معیشت میں تیل کی کھپت پر ہوگا۔رپورٹ کے مطابق، موجودہ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ۲۵؍ ڈالر فی بیرل کا اضافی خطراتی پریمیم شامل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ممکنہ سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات قیمتوں کو معمول کی متوقع سطح سے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ ذخائر پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا اور قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فلسطینی کراٹے کھلاڑی مریم بشارات نے عالمی چیمپئن شپ میں پھر جیتا طلائی تمغہ
طلب کے محاذ پر چین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں تیل کی کھپت توقعات کے مقابلے میں کمزور رہی ہے۔ گولڈمین ساخس کا اندازہ ہے کہ جب صاف شدہ تیل کی مصنوعات، مثلاً پیٹرول اور ڈیزل، کی دستیابی بہتر ہوگی اور ان کی قیمتیں نسبتاً قابلِ برداشت ہوں گی تو طلب میں بتدریج بحالی آسکتی ہے۔ ادھر ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی۔ اس اضافے کی ایک وجہ یہ تھی کہ قریب مستقبل میں تیل کی فراہمی بہتر ہونے کی امیدیں کمزور پڑگئیں اور تاجروں نے قیمتوں میں مزید اضافے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پوزیشنیں اختیار کیں۔
مجموعی طور پر گولڈمین ساخس کی پیش گوئی کے مطابق، اگر مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات معمول پر رہیں، پیداوار بڑھے اور عالمی طلب محدود رہے تو۲۰۲۷ء میں خام تیل کی قیمتیں اوسطاً ۸۰؍ ڈالر فی بیرل تک آسکتی ہیں۔ تاہم، خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے یہ منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ ہندوستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں ممکنہ کمی درآمدی بل، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے، لیکن صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کا انحصار ملکی ٹیکس، روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ اور تیل کمپنیوں کی قیمتوں سے متعلق پالیسیوں پر بھی ہوگا۔