امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امدادی قافلہ کیوبا کی بندرگاہ پر پہنچا، جبکہ یہ ملک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایندھن کی فراہمی روکنے کے بعد شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2026, 5:02 PM IST | Havana
امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امدادی قافلہ کیوبا کی بندرگاہ پر پہنچا، جبکہ یہ ملک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایندھن کی فراہمی روکنے کے بعد شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔
کیوبا نےامریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’’نیوسٹرا امریکہ کونوئے‘‘ (Nuestra America Convoy) کے تحت انسانی امداد کی کھیپ وصول کی ہے۔واضح رہے کہ یہ بین الاقوامی کوشش عالمی کارکنوں کی جانب سے ترتیب دی گئی ہے تاکہ امریکی پابندیوں کو نظرانداز کیا جا سکے جس کے تحت جزیرے پر ایندھن اور دیگر اشیا کی ترسیل پر عائد ہیں۔دریں اثناء یہ امداد ایک چھوٹے جہاز کے ذریعے پہنچی جو گزشتہ ہفتے میکسیکو کی بندرگاہ پروگریسو سے روانہ ہوا تھا اور منگل کی صبح ہوانا کی بندرگاہ میں داخل ہوا۔ اس نے کیوبا کے حکام کو۱۴؍ ٹن خوراک، ادویات، سولر پینل اور سائیکلیں فراہم کیں۔یہ تین جہازوں کے قافلے میں سے ایک تھا جو پروگریسو سے روانہ ہوئے تھے، اور دو مزید جہاز بعد میں پہنچنے والے ہیں۔دررصل یہ کھیپ ان۶؍ ٹن سامان کے علاوہ ہے جو گزشتہ ہفتے کارکنوں کے ذریعے ہوائی جہاز سے لائے گئے تھے، جن میں اسپتالوں میں ترسیلات شامل تھیں جنہیں کیوبا کے سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز-کینل نے گزشتہ ہفتے صدارتی محل میں قافلے کے ارکان کا استقبال کیا، جن میں برطانوی لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربین جیسے یورپی سیاستدان بھی شامل تھے۔
Cuba ha dado mucha solidaridad por el mundo durante décadas, así que hoy recibe Cuba parte de esa solidaridad contra el bloqueo de EEUU con la llegada humanitaria del Granma 2.0pic.twitter.com/OdYiYmaTYq
— Aníbal Garzón 🌎 (@AnibalGarzon) March 24, 2026
یہ بھی یاد رہے کہ نیوسٹرا امریکہ اتحاد میں۳۰؍ سے زائد ممالک کی تقریباً۳۰۰؍ تنظیمیں شامل ہیں، جن میں غیر سرکاری تنظیمیں، یونینیں، سیاسی جماعتیں اور قانون ساز شامل ہیں۔برازیل کے کارکن تھیاگو ایویلا نے جہاز سے اترنے کے بعد کہا، ’’یہ صرف پہلا قدم ہے۔ اس سے کہیں زیادہ امداد آئے گی۔‘‘بعد ازاں منگل کو ہونے والی یہ ترسیل، جو کیریبین میں خراب موسم کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی، کو بڑی حد تک علامتی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ کیوبا ایک شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جس نے نقل و حمل، صحت کی دیکھ بھال اور بجلی کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے جزیرے کو ایندھن کی فراہمی منقطع کر دی ہے اور کیوبا کو تیل پہنچانے والے ممالک پر محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔تاہم حمایت کا یہ اظہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں کوسٹاریکا نے ایکواڈور کے ساتھ مل کر کیوبا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔