تمل ناڈو کی سیاست میں تاریخ رقم کرنے والے تھلاپتی وجے کی کامیابی کے پیچھے ان کے والد کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ شوبھا چندرشیکھر کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ بہن کو کھونے کے غم سے لے کر سیاست کی بلندیوں تک پہنچنے میں ماں نے وجے کو ہر طوفان سے کیسے بچایا۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 6:07 PM IST | Chennai
تمل ناڈو کی سیاست میں تاریخ رقم کرنے والے تھلاپتی وجے کی کامیابی کے پیچھے ان کے والد کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ شوبھا چندرشیکھر کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ بہن کو کھونے کے غم سے لے کر سیاست کی بلندیوں تک پہنچنے میں ماں نے وجے کو ہر طوفان سے کیسے بچایا۔
تھلاپتی وجے، جن کا اصل نام جوزف وجے چندرشیکھر ہے، نے حال ہی میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی ٹی وی کے نے پرانی اور بڑی پارٹیوں کو شکست دیتے ہوئے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تاریخ رقم کی۔ وجے کی اس کامیابی میں ان کے والد ایس اے چندرشیکھر کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی والدہ شوبھا چندرشیکھر نے بھی انہیں اس مقام تک پہنچانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
اکثر اس کامیابی کا سہرا ان کے والد اور معروف ہدایتکار ایس اے چندرشیکھر کے سخت نظم و ضبط کو دیا جاتا ہے، لیکن قریب سے دیکھا جائے تو وجے کی اس کامیابی کی کہانی ان کی والدہ شوبھا چندرشیکھر نے بہت پہلے لکھ دی تھی۔ اس مدرز ڈے پر جانتے ہیں کہ کیسے ایک ماں نے نہ صرف اپنے بیٹے کے خوابوں کی آبیاری کی بلکہ اسے ہر مشکل سے بچا کر ایک عوامی لیڈر بنایا۔
خاموشی میں چھپا درد
وجے اپنی پراسرار خاموشی کے لیے جانے جاتے ہیں، اس کے پیچھے بچپن کا ایک گہرا صدمہ ہے۔ ان کی والدہ شوبھا چندرشیکھر نے بتایا تھا کہ بچپن میں وجے بہت خوش مزاج اور باتونی تھے، لیکن اپنی چھوٹی بہن ودیا کی صرف ۲؍ سال کی عمر میں وفات نے انہیں اندر سے توڑ دیا۔ ۹؍ سال کی عمر میں بہن کو کھونے کے بعد وہ اچانک خاموش ہو گئے۔ اس وقت ان کی ماں شوبھا ان کے لیے ایک مضبوط ڈھال بنیں۔ انہوں نے اس خاموشی کو کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ جذباتی طور پر انہیں مضبوط کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج وجے بڑے مجمع کے سامنے بھی پُرسکون اور فوکسڈ نظر آتے ہیں—یہ صبر انہیں ان کی ماں نے سکھایا۔
وہ گانا جو ان کے سیاسی مستقبل کی جھلک بن گیا
کہا جاتا ہے کہ ماں کی زبان میں برکت ہوتی ہے۔ شوبھا چندرشیکھر نے ۲۰۰۵ء کی فلم’’شیواکاسی‘‘ کے ایک گانے میں ایک لائن گائی تھی جس کا مطلب تھا کہ اگر غریب فیصلہ کر لے تو وہ کل وزیراعلیٰ بن سکتا ہے۔ اس وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ الفاظ ۲۰۲۶ء میں حقیقت بن جائیں گے۔ شوبھا نہ صرف وجے کی ماں ہیں بلکہ انہوں نے ان کی فلموں میں بطور گلوکارہ، مصنفہ اور پروڈیوسر بھی کام کیا۔ اس سے وجے کو ابتدائی کیریئر میں ایک خاندانی اور سادہ شخصیت کی پہچان ملی۔
باپ کا نظم و ضبط، مگر ماں کا سکون
وجے کے والد کو فلمی دنیا میں سخت مزاج (ٹاسک ماسٹر) سمجھا جاتا تھا جنہوں نے انہیں سخت نظم و ضبط سکھایا۔ لیکن ان کی والدہ شوبھا نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس سختی کے باوجود وجے کی ذہنی صحت اور سادگی برقرار رہے۔ شوبھا کے مطابق وجے آج بھی رات کی شوٹنگ سے گریز کرتے ہیں اور اپنا وقت گھر میں ماں اور بچوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتے ہیں۔ یہی سادگی انہیں عوام کا محبوب بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’دِریشیم ۳‘ کا زبردست ٹریلر جاری، خطرناک معمہ میں الجھے جارج کُٹّی
والد اور بیٹے کے درمیان ’امن کی سفیر‘
گزشتہ برسوں میں وجے اور ان کے والد کے درمیان سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے۔ اس وقت شوبھا نے ماں اور بیوی دونوں کے کردار کو نبھاتے ہوئے خاندان کو ٹوٹنے سے بچایا۔۲۰۲۳ء میں فلم’ وارسُو‘ کے آڈیو لانچ پر جب پورا خاندان ایک ساتھ اسٹیج پر آیا تو یہ ان کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اسی موقع پر وجے نے کہا تھا کہ ان کی ماں کی محبت ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفاورلڈ کپ ۲۰۲۶ء:ایران اپنے قومی پرچم اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا
جیت کے بعد ماں کے صرف تین الفاظ
۴؍ مئی ۲۰۲۶ء کوٹی وی کے کی تاریخی جیت کے بعد پورا تمل ناڈو جشن میں ڈوب گیا۔ جب میڈیا شوبھا چندرشیکھر کے پاس پہنچا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر فخر تھا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا ’’میں بہت خوش ہوں۔‘‘ وجے کے والد نے بھی اس لمحے کو جذباتی بناتے ہوئے کہا کہ شوبھا صرف وجے کی ماں نہیں بلکہ اس کی پہلی اور سب سے بڑی مداح بھی ہیں۔