• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

دادر : پلیٹ فارم نمبر ایک کی چوڑائی بڑھنے سے مسافروں کو سہولت ہوگی

Updated: October 09, 2023, 11:44 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dadar

آج بھی پلیٹ فارم نمبر ایک پر رسی باندھ کر بھیڑ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ۹؍ دسمبر سے دادر سینٹرل ریلوے کے تمام پلیٹ فارموں کا نمبر بدل جائے گا اور ۸؍نمبر سے آغاز ہوگا۔

Widening of platform number one of Dadar railway station is in progress. Photo: INN
دادر ریلوے اسٹیشن کے ایک نمبر پلیٹ فارم کو چوڑا کرنے کا کام جاری ہے۔ تصویر:آئی این این

دادر سینٹرل ریلوے میں پلیٹ فارم نمبر ایک کی توسیع سے ہزاروں مسافروں کو کافی سہولت ملنے کے ساتھ حادثہ پیش آنے کا اندیشہ مستقل طور پر ختم ہوجائے گا کیونکہ پلیٹ فارم نمبر ۲؍ کو ختم کر کے اسے پلیٹ فارم نمبر ایک میں شامل کیا جارہا ہے۔یہ کام تیزی سے جاری ہے۔ دوسری بڑی تبدیلی پلیٹ فارم کے نمبرات کے حساب سے ہوگی۔
۹؍دسمبر ۲۰۲۳ء سے دادر سینٹرل ریلوے میں پلیٹ فارم نمبر ایک کے بجائے سینٹرل ریلوے کے مجموعی ۸؍پلیٹ فارم کی گنتی ۸؍سے ۱۵؍ہوجائے گی، یعنی آج جو پلیٹ فارم نمبر ایک کہلاتا ہے وہ پلیٹ فارم نمبر ۸؍کہلائے گا۔ البتہ دادر ویسٹرن ریلوے کے ایک سے ۷؍نمبر تک کے پلیٹ فارم کے نمبرات من و عن ہوں گے۔ اسی لحاظ سے دادر ویسٹرن اور سینٹرل ریلوے کو ایک سے ۱۵؍نمبر کے پلیٹ فارم والا اسٹیشن کہا جائےگا۔ مطلب یہ کہ اگر پلیٹ فارم نمبر ۱۴؍یا ۱۵؍کہا جائے تو مسافر کو سمجھنا ہوگا کہ سینٹرل ریلوے کی بات ہورہی ہے۔
سینٹرل ریلوے انتظامیہ کے مطابق  پلیٹ فارم نمبرات کی یہ تبدیلی اس لئے کی جارہی ہے کہ مسافروں کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو۔یاد رہے کہ کام شروع کرکے ۱۵؍ ستمبر سے پلیٹ فارم نمبر ۲؍ کو ختم کرنے کے باوجود پلیٹ فارم پر اب بھی بھیڑ بھاڑ کنٹرول کرنے کیلئے رسی باندھی جاتی ہے اور پولیس کے جوان پہرہ دیتے رہتے ہیں اور وہ  مسافروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔کام پورا ہونے پر پلیٹ فارم‌ نمبر ایک کی چوڑائی بڑھاکر ساڑھے ۱۰؍ میٹر کردی جائے گی جو اب تک ۷؍میٹر تھی۔ 
مسافروں کو سہولت
 دادر ریلوے کے چند مصروف ترین ریلوے  اسٹیشنوں میں سے ایک ہے۔ پلیٹ فارم نمبر ایک کو اسی بنیاد پر چوڑا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ایک نمبر اور ۲؍ نمبر ملے ہونے کی وجہ سے جب دونوں کے مسافر آجاتے تھے تو حادثے کا اندیشہ رہتا تھا اور پہلے متعدد مرتبہ حادثے ہوئے بھی ہے۔ اسی لئے اسے اس طرح چوڑا کیا جا رہا ہے کہ پلیٹ فارم نمبر۲؍کو ختم کر کے پلیٹ فارم نمبر ایک میں ملا دیا گیا ہے ۔ اس سے سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ پلیٹ فارم کی چوڑائی ساڑھے ۳؍ میٹر اور بڑھ جانے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسافروں کے لئے گنجائش پیدا ہو جائے گی۔ ابھی جس طرح رسی وغیرہ لگا کر کہ بھیڑ کو کنٹرول کیا جاتا ہے اس کی ضرورت بھی نہیں پیش آئے گی۔
سینٹرل ریلوے کے سینئر پی آر او اے کے جین نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر مذکورہ بالا تفصیلات بتاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس کام کے لئے ۲؍ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے اور ایک کروڑ روپے کا صرفہ آئے گا، یہ کام تیزی سے جارہی ہے اور یہ درست ہے کہ مسافروں کو پریشانی ہورہی ہے لیکن یہ کام ناگزیر تھا، اسی لئے ۲۳؍دن قبل کام کا آغاز کیا گیا۔
 سینئر پی آر او  نے یہ بھی بتایا کہ صبح و شام کام اس انداز میں کیا جارہا ہے کہ کام آگے بڑھتا رہے اور ٹرینوں کی آمدورفت میں کوئی خلل بھی نہ ہو اسی لئے ۱۵؍ستمبر سے ہی وہ ٹرینیں جو دادر میں پلیٹ فارم نمبر ۲؍ پر ختم ہوتی تھیں اور یہیں سے شروع ہوتی تھیں انہیں پریل تک لایا جارہا ہے اور یہیں سے روانہ کیا جا رہا ہے۔
پلیٹ فارموں کی نئی ترتیب
۹؍دسمبر۲۰۲۳ء سے  دادر اسٹیشن پر جہاں سینٹرل ریلوے کی ٹرینیں آتی ہیں  وہاں کے پلیٹ فارموں کی نئی ترتیب کچھ اس طرح ہوگی۔ نئی ترتیب کے مطابق آج کا پلیٹ فارم نمبر ایک پلیٹ فارم نمبر۸؍ نمبر ہوگا، پلیٹ فارم نمبر۲؍ختم ہوجائے گا، پلیٹ فارم نمبر ۳؍پلیٹ فارم‌ نمبر ۹؍ہوجائے گا، پلیٹ فارم نمبر ۴؍پلیٹ فارم نمبر ۱۰؍ہوجائے گا، پلیٹ فارم نمبر۵؍پلیٹ فارم نمبر ۱۱؍ہوجائے گا، پلیٹ فارم نمبر ۶؍پلیٹ فارم نمبر ۱۲؍ہوجائے گا،پلیٹ فارم نمبر ۷؍پلیٹ فارم نمبر ۱۳؍ ہوجائے گا اور پلیٹ فارم نمبر ۸؍پلیٹ فارم نمبر ۱۴؍ ہوجائے گا۔پلیٹ فارم‌ کے نمبرات کی تبدیلی کے تعلق سے اے کے جین نے بتایا کہ یہ پہلے کمیٹی میں بات آئی تھی کہ ویسٹرن اور سینٹرل دونوں ریلویز میں پلیٹ فارم‌ نمبر ایک سے شروع ہونے اور طویل مسافتی ٹرینوں میں سفر کرکے  باہر سے آنے والے مسافروں کیلئے مسئلہ ہوتا تھا، وہ تذبذب میں مبتلا ہوجاتے تھے، اس لئے نئی یہ ترتیب رکھی گئی ہے کہ سینٹرل ریلوے میں ۸؍نمبر سے پلیٹ فارم کا آغاز ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK