Inquilab Logo Happiest Places to Work

جلگائوں میں بزرگ خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے قائم کیا گیا دادی ۔ نانی اسکول

Updated: March 16, 2026, 11:47 PM IST | Sarjil Qureshi | Jalgaon

۴۷؍ بزرگ خواتین نے نہ صرف اس اسکول میں داخلہ لیا بلکہ وہ سنجیدہ طالبات کی طرح بڑے شوق سے کلاس میں حاضر ی لگاتی ہیں ، اپنا سبق یاد کرتی ہیں

Elderly women struggling to get an education
تعلیم حاصل کرنے میں منہمک بزرگ خواتین ( تصویر: انقلاب)

سیکھنے کیلئے عمر کی کو ئی حد نہیں ہوتی اور اگر علم حاصل کرنے کا عزم ہو تو عمر کے کسی بھی پڑائو پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔جلگائوں میں اسی خیال کو عملی پیرائے میں ڈھالا گیا ہے۔شہر کے سپریم کالونی علاقے میں بزرگ خواتین کیلئے د ادی ۔نانی اسکول شروع کیا گیا۔ میونسپل اردو اسکول نمبر ۱۱؍ میں آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن کی پیش رفت اور میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کے تعاون سے بزرگ خواتین کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے یہ اہم اقدام کیا گیا ہے۔ 
 اکثر خاندانی ذمہ داریوں یا نا مساعد حالات کے سبب لڑکیوں کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے جبکہ ان میں علم حاصل کرنے کا جذبہ اور صلاحیت بھرپور ہوتی ہے ۔ تعلیم  سے محروم ایسی ہی خواتین کیلئے یہ اسکول شروع کیا گیا ہے جہاں باقاعدہ اسکولی نصاب یا کلاس در کلاس امتحان کا کوئی نظم فی الحال نہیں ہے لیکن خواتین کو بنیادی تعلیم سے آراستہ کرنے کا پورا نتظام ہے۔   دادی ۔نانی اسکول کی نگراں نگار سلطانہ شاہ بتاتی ہیں کہ’’ اس اسکول کا بنیادی مقصد ایسی ناخواندہ یا نیم خواندہ  بزرگ خواتین کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانا اور انہیں تعلیم سے آراستہ بنانا ہے ۔‘‘ اس اسکول کا افتتاح آل انڈیا میمن جماعت فیڈریشن جلگائوں کے صدر قادر ٹکی کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔اس موقع پر حسین بیبا ،شاکرچتوال والا ، آصف میمن کے علاوہ ایچ ایم ٹی انٹر نیشنل انگلش میڈیم اسکول،ماسٹر کالونی کی پرنسپل نگارسلطانہ شاہ میڈیم اور اساتذہ بھی موجودہ تھے ۔
 اسکول کے پہلے سیشن میں ۴۷؍ بزرگ خواتین نے نہ صرف جوش و خروش کے ساتھ داخلہ لیا بلکہ وہ باقاعدہ کلاس میں حاضررہتی ہیں  اور ایک سنجیدہ طالبہ کی طرح علم حاصل کرتی ہیں۔ یہ دادی ۔ نانی اسکول ہفتے میں دو دن یعنی سنیچر اور اتوار کو ہوتا ہے ۔اس کا وقت ۳؍گھنٹے متعین کیا گیا ہے ۔صبح گیارہ سے دوپہر دو بجے تک ۔اس دوران چھوٹے بچوں کی طر ح یہاں بھی زیر تعلیم دادی ۔نانی کو درمیانی چھٹی( ریسیس) ملتی ہے ،جس میںبڑے شوق و ذوق سے ٹفن کھایا جاتا ہے ۔حالانکہ یہاں دادی ۔نانی کو درسی کُتب کا نصب نہیں پڑھایا جاتا ہے ۔ ابتدا حروف تہجی سے کی  جائے گی۔ پھر جب یہ خواتین پڑھنا لکھنا سیکھ جائیں گی تو اکیڈمک ایجوکیشن سے ہٹ کر بینکنگ لین دین ،دستخط اور روزمرہ کی زندگی کے تکنیکی علم سے متعارف کروایا جائے گا۔ساتھ ہی خود ان خواتین کے مطالبے پر دینی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ وہ روزآنہ چلتے پھرتے ،اُٹھتے بیٹھتے پڑھی جانے والی مسنون دعائیں بھی سیکھتی ہیں ۔ دو معلمہ ان خواتین کی تدریس پر مامورہیں ۔ ایک ایم اے اور دوسری گریجویٹ ،بی  ایڈ ہیں ۔ دونوں کو آل انڈیا میمن فیڈریشن کی جانب سے مناسب محنتانہ دیا جاتا ہے ۔جب اس نامہ نگارنے دادی ۔نانی اسکول میں زیر تعلیم  رخسانہ حمید دیشمکھ سے بات کی تو انہوں نے کہا ’’زندگی کے اس مرحلے پر ہمیں تعلیمی موقع فراہم کرنے پرمیں فیڈریشن کا شکریہ ادا کرتی ہوں ،مجھے دادی ۔نانی اسکول میں اس عمر میں سیکھنے کا مو قع ملا ۔میں اس جگہ سے کچھ اچھا سیکھ کر نکلوں گی ،انشااللہ ۔‘‘
 اس سلسلے میں قادر ٹکی(صدر آل انڈیا میمن فیڈریشن جلگائوں )نےبتایا کہ جلد ہی مزید ایک دادی ۔نانی اسکول کثیر مسلم آبادی والےمہرون کے ماسٹر کالونی میں بھی شروع کرنے کا ارادہ ہے ۔ایک چھوٹا سا عزم لے کر اسکول کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس طرح کے اسکول کا آئیڈیا ہمیں پسند آیا۔ انہوں نے کہا بزرگ خواتین کچھ نہ کچھ علم تو حاصل کر ہی لیں گی۔ ساتھ ہی ان کیلئے مصروفیت کا سامان ہو جائے گا۔ نیز وہ سماجی طور پر بھی کسی حد تک سرگر م ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اس آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے میں آل انڈیا میمن فیڈریشن کے روح رواں اقبال آفیسر میمن اور آل انڈیا میمن فیڈریشن جلگائوں نے اہم کردار ادا کیا ۔

jalgaon Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK