جلگائوں میں کسان، انشورنس کمپنی اور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے بڑے گھوٹالہ کی سازش ، خاطیوںکے نام الٹی میٹم نوٹس جاری ۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 9:47 AM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
جلگائوں میں کسان، انشورنس کمپنی اور سرکاری افسران کی ملی بھگت سے بڑے گھوٹالہ کی سازش ، خاطیوںکے نام الٹی میٹم نوٹس جاری ۔
موسمی پھلوں کی فصل بیمہ اسکیم میں ایک بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، یکم نومبرتا ۱۵؍دسمبر ۲۰۲۵ء جلگائوں ضلع میں مہاراشٹر ریموٹ سینسنگ ایپلی کیشن سینٹر (ایم آر ایس اے سی )ایجنسی کی طرف سے کی گئی تکنیکی تصدیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ۴۵؍ ہزار ایکڑ اراضی پر کیلےکی فصل کا جعلی انشورنس لیا گیا ۔ کیلے کی فصل بوائی نہیں کی گئی اور کاغذ پر کیلے کے باغات دکھا کر حکومت کو کروڑوں روپے کا دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔معاملہ سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے کسانوں ، بیمہ ایجنسیوں اور اس معاملے میں غفلت برتنے والے سرکاری آفیسر و ملازمین جنھوں نے جان بوجھ کر خفلت برتی کے خلاف مقدمات درج ہونے کے آثار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عدالت نے راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بند کیا
جلگائوں ضلع کلکٹر روہن گھوگھے نے بتایا کہ ۵۵؍ہزار کسانوں اور بیمہ ایجنسیوں کونوٹس دیا گیا ہے ۔ا ن سے جوابات سننے کے بعد آئندہ کی کارروائی کی جائے گی۔ اطلاع کے مطابق اس پورے غبن میں ۵۵؍ ہزار کسانوں میں سے ۲۷؍ ہزار ایسے ہیں جنھوں نے بغیر کیلے کے باغات کے جعلی انشورنس کروایا اور ۲۹؍ہزار ایسے ہیں جنھوں نے کسی دوسرے کے کو کھیت کو اپنا دکھا کر انشورنش کروایا ۔محکمہ زراعت کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق ضلع میں۲۸؍ہزار ۴۷۵؍ ہیکٹر اراضی پر کیلے کی کوئی فیصل نہیں اُگائی گئی۔ پھر بھی کاغذ پر یہ دکھایا گیا کہ ۲۷؍ہزار ۴۱۹؍ جگہ پر کیلے کے باغات لگائے گئے ہیں اور ان کا انشورنس کروایا گیا۔ باقی ۱۷؍ہزار ہیکٹرپر ایک ہی گروپ میں۴؍ سے ۵؍ کسانوں نے انشورنس کروایا ہے اور ایسے کسانوں کی تعداد۲۹؍ہزارتک ہے۔ جلگائوں ضلع کے۷؍ تعلقوں میں ایسا کیا گیا ہے جن میں سے چوپڑا تعلقہ میں ایسے معاملات سب سے زیادہ ہیں۔ یہاں تقریباً۷؍ہزار ۲۴۳؍ کسانوں نے اس وقت بھی بیمہ لیا ہے جبکہ انہوں نے کیلے کا کوئی باغ نہیں لگایا۔ جبکہ کاغذ پر ۸؍ہزار ۴۱۹؍ہیکٹر زمین پر پر کیلےکے باغات دکھائے گئے ہیں ۔ اس کے بعد بیاول تعلقہ میں ۵؍ہزار ۳۶۸؍کسانوں نےجعلی بیمہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رسوئی گیس کی کمی: اب انڈکشن ککر کی مانگ، ۹؍ ہزار کا ککر ۲۳؍ ہزار میں
ضلع کلکٹر روہن گھوگھے نے بتایا کہ دونوں ہی قسموں کے کسانوں کو الٹی میٹم نوٹس بھیج کر تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ۷؍ دنوں کے اندر محکمہ زراعت کو تسلی بخش وضاحت فراہم نہ کی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔اسکے علاوہ ضلع کے ۷؍ تعلقوں کے ان ۴۸؍ سی ایس سی سینٹر جہاں جعلی فارم بھرے گئے ان مراکز کی انکوائری اور ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس گھوٹالے کا بر وقت پردہ فاش نہ ہوتاتو حکومت کو ۱۷۹؍ کروڑ قسطوں میں اور تقریباً ڈھائی کروڑ کے معاوضے کا غبن ہو جاتا۔ ریاستی حکومت نے ان ۵۵؍ ہزار کسانوں کی جانب سے ادا کی گئی ۳۷؍کروڑ کی بیمہ رقم ضبط کر لی ہے جو کہ بوگس نکلے ہیں۔