سینٹرل ریلوےکے ۴؍ اسٹیشنوں کےدرمیان خطرناک خلاء

Updated: December 27, 2021, 10:32 AM IST | Agency | Mumbai

مسافروں کومسجد بندر، چمبور اور ملنڈ کے پلیٹ فارم نمبر ۴؍ پرحادثے کا اندیشہ ، سینڈھرسٹ روڈ کے پلیٹ فارم نمبر ایک کو اونچا کیا جارہا ہے

Dangerous gaps can be seen between the Sandhurst Road Station train and the platform.Picture:Inquilab
سینڈھرسٹ روڈ اسٹیشن پرٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان خطرناک خلاء دیکھا جاسکتا ہے۔تصویر:انقلاب

سینڈھرسٹ روڈ اسٹیشن سے ٹرین میں سوار ہونےو الے مسافروں نے شکایت کی ہے کہ یہاں ٹرین اور پلیٹ فارم کے درمیان خطرناک خلاء ہے جس سے حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ ریلوے افسران نے اس مسئلے کیلئے اسٹیشن کی پٹریوں پرخطرناک موڑکو قرار دیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہرسال مانسون میں پٹریوں کو زیرآب آنے سے بچانے کیلئے ریلوے لائنوں کو اونچا کیا جاتا ہے جس سے خلاء بھی چوڑا ہوجاتا ہے۔ اس نمائندے نے اس جگہ خلاء کو کچھ  زیادہ چوڑا دیکھا جہاں خطرناک موڑ تھا۔
 مسافروںکا کہنا ہے کہ انہیں سینڈھرسٹ ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں میں چڑھنے سے ڈر لگتا ہے۔ سداشیو ٹھاکر نامی مقامی شخص اور مسافر نے کہا کہ اس کے سبب اب کبھی کبھی اور روزانہ مسافروں کو  زیادہ دھیان دینا پڑتا ہے لیکن یہ ان مسافروں کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے جو چلتی ٹرین میں دوڑکر سوار ہوتے ہیں۔ ہرشد مورے نامی ایک اور مسافروں نے کہا کہ  اس خلاء میں گرکر ہلاک ہونے کا خطرہ  زیادہ رہتا ہے۔امیا پردھان نامی مسافر کے مطابق اس طرح کے مسائل اسٹیشن کے اس کنارے پر ہوتے ہیں جہاں موڑ ہوتے ہیں۔ یقیناً سینٹرل ریلوے کے پاس ایسے قابل انجینئرس ہیں جو اس مسئلے کو حل کرلیں۔‘‘ متعدد مسافروں نے کہا کہ اسی طرح کی پریشانی مسجد بندر ، چمبور اور ملنڈ کے پلیٹ فارم نمبر ۴؍ پر پیش آرہی ہیں۔ سدھیر بدامی  آئی آئی ٹی بامبے کے سول انجینئر ہیں اور انہیں ۴۰؍ سال کا پیشہ ورانہ تجربہ بھی ہے ساتھ ہی وہ   ہائی کورٹ کی اس کمیٹی کے ممبر ہیں جو پلیٹ فارم کی اونچائی بڑھانے کی نگرانی کررہی ہے ۔ وہ کافی عرصے سے اس مسئلے کا مطالعہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ریل کے ٹاپ اور پلیٹ فارم کے ٹاپ کے درمیان اونچائی کی سطح  کا فرق ۹۰۰؍ ملی میٹر اور ۹۱۰؍ ملی میٹرہوتا ہے ۔ وہ اس سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔‘‘ریلوے افسران اس مسئلے سے واقف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم کی اونچائی بڑھانے کا کام جاری ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ ’’ چیزیں منتقل کرنے کا کام پہلے ہی جاری ہے اور ایک مہینے یا اس سے زیادہ عرصے میں پلیٹ فارم کی اونچائی ۹۰۰؍ ملی میٹر کرنے کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK