شہریت قانون سے متعلق مایاوتی کے رویے سےکنور دانش علی ناراض

Updated: January 14, 2020, 5:38 PM IST | Mumtaz Alam Rizvi | New Delhi

ذرائع کے مطابق مرکزی اور اترپردیش کی حکومت کے سامنے جس طرح سے بی ایس پی خود سپردگی کامظاہرہ کر رہی ہے، اس کی وجہ سے کنو ر دانش علی کوخدشہ ہے کہ اس سے مسلمان پارٹی سے دور ہوجائیں گے جس کی وجہ سے بی ایس پی کو کافی نقصان ہوگا۔

کنور دانش علی ۔ تصویر : آئی این این
کنور دانش علی ۔ تصویر : آئی این این

 نئی دہلی : شہریت ترمیمی قانون ۲۰۱۹ء (سی اے اے )، قومی رجسٹر برائے شہریت (این آر سی )اور قومی رجسٹر برائے آبادی (این پی آر ) کے خلاف جس طرح سے اپوزیشن پارٹیاں میدان میں ہیں اور حکومت کے خلاف مورچہ بندی کر رہی ہیں،اس اتحاد سے بی ایس پی کے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے بی ایس پی کا مسلم چہرہ قرار دیئے جانے والے رکن پارلیمان کنور دانش علی ناراض بتائے جارہے ہیں۔
  ذرائع کے مطابق مرکزی اور  اترپردیش کی حکومت کے سامنے جس طرح سے بی ایس پی خود سپردگی کامظاہرہ کر رہی ہے، اس کی وجہ سے کنو ر دانش علی کوخدشہ ہے کہ اس سے مسلمان پارٹی سے دور ہوجائیں گے جس کی وجہ سے  بی ایس پی کو کافی نقصان ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی کے پیش نظر موجودہ صورتحال  سےپریشان کنور دانش علی لند ن چلے گئے ہیں، اب وہ  غالباً اگلے ہفتے واپس ہندوستان آئیں گے۔ خیال رہے کہ۱۵؍ جنور ی کو بی ایس پی سپریمو مایاوتی کی سالگرہ ہے،شاید اسی سے فاصلہ بنائے رکھنے کیلئے انہوں نے ایسا کیا ہے۔
  ۱۹؍ دسمبر۲۰۱۹ء کو اتر پردیش میں جو کچھ ہوا اور اب بھی  یوپی کی جو صورتحال ہے وہ کنور دانش کیلئے  پریشان کن ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی وجہ سے تمام تر ہنگامہ آرائیوں کے باوجود امروہہ پارلیمانی حلقے میں تشدد پر قابو پا لیا گیا تھا۔ حالانکہ اس دوران امروہہ کے پڑوسی پارلیمانی حلقے بجنور ، میرٹھ، سنبھل   اور رام پور میں کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ ان علاقوں میں گرفتاریاں بھی بڑے پیمانے پر ہوئیں لیکن امروہہ پوری طرح سے محفوظ رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کیلئےکنور دانش علی نے دو طرفہ کوششیں کی تھیں۔ ایک جانب جہاں انہوں نے مظاہرین کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، وہیں دوسری طرف وہ  انتظامیہ سے بھی  مسلسل رابطے میں رہے۔
  اپنی پارٹی کے موقف سے کنور دانش کی یہ کوئی پہلی ناراضگی نہیں ہے۔  اس سے قبل جموں کشمیر کے خصوصی اختیار  سے متعلق دفعہ ۳۷۰؍ کے خاتمے  پر بھی اپنی پارٹی کے موقف سے  وہ متفق نہیں تھے چنانچہ جب انھوں نے ہائوس میں بطور لیڈر بولنے سے انکار کر دیا تھا تو انھیں لوک سبھا میں لیڈر کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں ضمنی انتخابات میں ہزیمت کے بعدانھیں دوبارہ بی ایس پی کی طرف سے لوک سبھا کا لیڈر بنادیا گیا۔
  کنور دانش کا دعویٰ ہے کہ راجیہ سبھا میں بی ایس پی نے سی اے اے کی مخالفت کی ہے ۔ اس کے ساتھ مایاوتی نے بھی سی اے اے کو ملک توڑنے والا قانون قرار دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دانش اس سے کافی مطمئن تھے لیکن سڑک پر اُتر کر اس کے خلاف لڑائی نہ لڑنے کی صورت میں وہ کافی مایوس ہیں۔  یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بات سے بھی ناخوش ہیں کہ جب اس معاملے میں ساری اپوزیشن پارٹیاں متحد ہیں تو بی ایس پی خود کو الگ تھلک کیوں کئے ہوئے ہے ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK