• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل میں انتخابی نتائج کےبعدحکومت سازی پر تعطل برقرار، عر ب جماعتوں کا کردار اہم ہوگا

Updated: October 30, 2026, 1:30 PM IST | Agency | Tel Aviv

اسرائیل ایک سیاسی تعطل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔منگل کے انتخابات کے بعد ۹۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، لیکن نہ موجودہ وزیراعظم نتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی ان کے اہم حریف گادی آئزنکوٹ کا بلاک اکثریت حاصل کرتا نظر آ رہا ہے۔

Gadi Eisenkot, leader of the opposition alliance in Israel. Photo: INN
اسرائیل میں اپوزیشن اتحادکے قائد گادی آئزنکوٹ۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل ایک سیاسی تعطل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔منگل کے انتخابات کے بعد ۹۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، لیکن نہ موجودہ وزیراعظم نتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی ان کے اہم حریف گادی آئزنکوٹ کا بلاک اکثریت حاصل کرتا نظر آ رہا ہے۔ حکومت بنانے کے لیے بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کو غالباً اپنی انتخابی مہم کے وعدوں سے دستبردار ہونا پڑے گا، جس کا مطلب ہے کہ سب سے زیادہ امکان نئے انتخابات کا ہو سکتا ہے۔واضح ہوکہ انتخابی نتائج کے مطابق ۱۲۰؍ رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں نتن یاہو کے اتحاد کو ۵۳؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد ۴۸؍ نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔ عرب جماعتوں کے اتحاد کو ۱۹؍ نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح عرب جماعتوں کی ممکنہ مجموعی ۱۹؍ نشستیں حکومت سازی کے لیے اہم بن سکتی ہیں، اگرچہ دونوں بڑے سیاسی اتحاد انہیں اپنی مخلوط حکومت میں شامل کرنے کے حامی نہیں ہیں۔

نتن یاہو کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت

کیا نتن یاہو، آئزنکوٹ کو قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے پر آمادہ کر سکتے ہیں؟ایسا کرنے کے لیے آئزنکوٹ کو اپنے بنیادی سیاسی موقف سے دستبردار ہونا ہو گا۔ انھوں نے خود کو نتن یاہو کا واحد متبادل قرار دیا ہے اور اپنی انتخابی مہم نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے وعدے پر استوار کی تھی۔صرف گزشتہ رات ہی انھوں نے اپنے انتخابی ہیڈکوارٹر میں اسٹیج پر آ کر نتن یاہو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آج ہی سیاسی زندگی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں اور سامعین سے کہا تھا کہ اسرائیلی عوام نتن یاہو کی’ جھوٹ کی سیاست‘، ’تقسیم اور اشتعال انگیزی‘ سے تنگ آ چکے ہیں۔لیکن یہ سب اُس وقت تھا جب ایک اہم ایگزٹ پول، جس میں ابتداء میں آئزنکوٹ کے بلاک کو برتری دی گئی تھی، بعد میں نظرثانی کے بعد تبدیل ہوا اور نتن یاہو ان سے آگے نکل گئے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: حکومت بنانے کیلئے اپوزیشن لیڈر یائر گولان کی منصورعباس سے ملاقات

نتن یاہو کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنی لیکوڈ پارٹی اور آئزنکوٹ کی یشار پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت بنائیں، اس مقصد کے لیے وہ انتہائی دائیں بازو اور سخت گیر مذہبی جماعتوں کو، جو اِس وقت ان کے اتحادی ہیں، اتحاد سے الگ کر سکتے ہیں۔تاہم گزشتہ رات لیکوڈ ہیڈکوارٹر میں انھوں نے اپنے وفادار اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا اور مضبوط دائیں بازو کی حکومت کا مطالبہ کیا، جسے بعض مبصرین نے اس اشارے کے طور پر دیکھا ہے کہ وہ ان جماعتوں کے ساتھ اپنا اتحاد برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

عرب جماعتوں کے ساتھ آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد

یہ اسرائیلی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گی۔ صرف ایک آزاد عرب جماعت ۲۰۲۱ء میں باضابطہ طور پر حکومتی اتحاد کا حصہ بنی تھی، اور وہ تجربہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔آئزنکوٹ اور ان کے بلاک کی (ایک کے سوا) تمام یہودی جماعتیں پہلے ہی ان عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر چکی ہیں، لیکن اس وقت اپوزیشن کیلئے اکثریت حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔الیکشن کی رات کی سب سے اہم خبر عرب جماعتیں تھیں۔ لگتا ہے کہ انھوں نے توقعات کے برعکس کارکردگی دکھائی ہے اور وہ ریکارڈ ۱۹؍ نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔اس میں اسرائیل کی عرب آبادی کی غیر معمولی حد تک زیادہ ووٹنگ نے مدد دی، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتی ہے۔برسوں تک بہت سے عرب ووٹرز نے اسرائیلی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ ووٹ ڈالنا استحصالی نظام کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK