عدن ہوائی اڈے پرحوثیوں کے میزائل حملے۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے اپنے شہریوں کو خطے میں سفری بندش اور احتیاط کا انتباہ دیا۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 1:39 PM IST | Agency | Riyadh/London/Washington
عدن ہوائی اڈے پرحوثیوں کے میزائل حملے۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے اپنے شہریوں کو خطے میں سفری بندش اور احتیاط کا انتباہ دیا۔
یمن میں جاری کشیدگی کے درمیان عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں اور صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں فضائی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔یمن میں حکومتی حکام نے حوثیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دو میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے جبکہ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حملے میں کم از کم ۱۴؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور سرکاری فورسیز کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔حوثی گروپ ایک جانب سعودی عرب کے اندر ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی دیتا ہے۔یمن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے حالیہ بیان میں کہا کہ حوثیوں کی جانب سے عدن ہوائی اڈے کو۶؍ مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اے ایف پی کے مطابق عدن پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثیوں کے داغے گئے دو میزائل ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے۔یمنی حکومتی افواج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ عدن ہوائی اڈے کے قریب دو بیلسٹک میزائل گرنے سے متعدد شہری زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی ہوا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے سیکورٹی خدشات کے باعث سعودی عرب میں میں موجود اپنے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور فضائی سفر میں خلل پیدا ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ہماری سیٹوں کے بجائے مودی وارانسی کی خبر لیں‘‘
خبردار کیا گیا ہے کہ یہ صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔’ ایکس‘ پر جاری بیان میں امریکی سفارت خانہ نے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کیلئے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال سے قبل چیف آف مشن کی خصوصی اجازت کو لازم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری رکاوٹوں سے آگاہ رہیں۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ (بشمول ترکی اور مصر) کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔دفتر خارجہ کی تازہ ترین ہدایات میں علاقائی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال بدستور انتہائی غیر یقینی ہے اور اچانک کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ مقامات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، ان مقامات میں تنظیمیں، کاروبار، تنصیبات اور ادارے شامل ہیں، تاہم یہ فہرست انہی تک محدود نہیں۔برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں موجود یا وہاں سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے برطانوی شہری ممکنہ طور پر پروازیں منسوخ ہونےاور سفر میں رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔