• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خشک سالی سے حالات خراب، سنگین بحران کا خدشہ

Updated: October 30, 2026, 1:50 PM IST | Agency | New Delhi

اب بیرون ملک سے آٹا، تیل، سویابین اور مکئی درآمد کی جائے گی،خشک سالی کے اثرات سویابین سے لے کر سرسوں اور مکئی تک کی فصلوں پر پڑے ہیں۔

Uncertainty also persists regarding the winter mustard crop. Photo: PTI
سردیوں میں ہونے والی سرسوں کی فصل کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

کاروباری سال ۲۷-۲۰۲۶ء میں ہندوستان کھانے پینے کی مختلف اشیاء کے ساتھ ساتھ جانوروں کے چارے اور زرعی شعبے سے متعلق خام مال کی درآمد میں اضافہ کر سکتا ہے۔ دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ اس کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ دراصل اس سال خشک سالی کےسبب فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے جس سے ملک میں زرعی مصنوعات کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

خشک سالی نے پریشانی بڑھائی

رپورٹ کے مطابق سویابین اور مونگ پھلی خریف کے موسم کی اہم فصلیں ہیں۔ کمزور مانسون کی وجہ سے ان فصلوں کو نقصان پہنچنے سے ملک میں خوردنی تیل اور جانوروں کے چارے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ایسے میں آنے والے وقت میں خوردنی تیل کی درآمد بڑھ سکتی ہے۔ چونکہ جانوروں کے چارے کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، اس لئے ڈیری اور پولٹری کی صنعت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں عام صارفین کے لئے انڈے، دودھ اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پولٹری فیڈ تیار کرنے والی کمپنیاں ’سویابین میل‘ اور مکئی درآمد کرنے کی اجازت مانگ رہی ہیں جبکہ کپڑے بنانے والے کپاس پر عائد درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسٹارچ کی صنعت کو خدشہ ہے کہ اگر مکئی کا بڑا حصہ اتھنال بنانے میں استعمال ہونے لگا تو چین سے اسٹارچ درآمد کرنے کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔ ان تمام خدشات کے درمیان سردیوں میں ہونے والی سرسوں کی فصل کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سپر یاٹ کیلئے امیروں میں مقابلہ، پارکنگ کے لیے مہنگی جگہ حاصل کرنا مشکل

سویابین کو بحران کاسامنا

سویابین کی فصلوں کو موسم کی دوہری مار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ سال شدید اور بے موسم بارش کے باعث پک کر تیار ہونے والی فصلیں کھیتوں میں ہی سڑ گئی تھیں۔ اب مالی سال۲۷ -۲۰۲۶ء میں مانسون کی بے رخی نے مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور ودربھ، تلنگانہ اور مدھیہ پردیش کے سویابین پیدا کرنے والے علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

کمپاؤنڈ لائیواسٹاک فیڈ مینوفیکچررز اسوسی ایشن(سی ایل ایف ایم اے) کے چیئرمین دیویا کمار گلاٹی نے دی اکنامک ٹائمز کو بتایا کہ صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت سے۳۰؍ لاکھ ٹن سویابین میل درآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

واضح رہےکہ پولٹری فیڈ میں سویابین میل اور مکئی کا حصہ تقریباً۸۰؍ فیصد ہوتا ہے۔ ان دونوں اشیاء کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے پیداواری لاگت کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

خوردنی تیل کی درآمدمیں اضافہ ہوسکتاہے

دی اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق خشک سالی کے باعث ملک میں تیل والے بیجوں کی پیداوار متاثر ہونے کی وجہ سے ہندوستان کی خوردنی تیل کی درآمد ۲۶-۲۰۲۵ءکے ایک کروڑ۶۵؍لاکھ ٹن سے بڑھ کر۲۷-۲۰۲۶ء میں ایک کروڑ۷۵؍ لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ درآمدات کے بارے میں حتمی اندازہ بڑی حد تک سرسوں کی پیداوار پر منحصر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK