یوپی میں بھی کانگریس نے آواز بلند کی، کرناٹک میں پریانک کھرگے نے واضح کیا کہ بھاگوت کو مکتوب ریاستی وزیر کی حیثیت سے بھیجا ہے ، شفافیت پر زوردیا
EPAPER
Updated: June 17, 2026, 7:09 AM IST | Lucknow
یوپی میں بھی کانگریس نے آواز بلند کی، کرناٹک میں پریانک کھرگے نے واضح کیا کہ بھاگوت کو مکتوب ریاستی وزیر کی حیثیت سے بھیجا ہے ، شفافیت پر زوردیا
کرناٹک میںراشٹریہ سوئم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کے رجسٹریشن اور قانونی حیثیت سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد اتر پردیش میں بھی اس موضوع پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے سابق ریاستی صدراجے کمار للو نے آر ایس ایس کو سماجی تقسیم کو فروغ دینے والی تنظیم قرار دیتے ہوئے پریانک کھرگےکی تائید کی اور کہا ہے کہ اسے بھی دیگر اداروں کی طرح قانون اور آئین کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔
’’ثقافت کی محافظ نہیں، تفریق بڑھانے کا سبب‘‘
اجے کمار للو نے’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ آر ایس ایس گزشتہ تقریباً ۱۰۰؍ برسوں سے خود کو ہندوستانی ثقافت کا محافظ قرار دیتی رہی ہے، تاہم ان کے مطابق ’’یہ تنظیم ملک میں مذہبی اور سماجی تفریق کو بڑھانے کا سبب بنی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ’’ ایک ایسی تنظیم، جس کے لاکھوں کارکن اور ہزاروں ذیلی ادارے ہیں، وہ باضابطہ رجسٹریشن سے گریز کیوں کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کے مؤقف کی تائیدکرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے اور آر ایس ایس کو بھی اپنی سرگرمیوں کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے عام شہریوں، تاجروں اور چھوٹے کاروباریوں کو قانونی ضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے تو پھر ایک بڑی سماجی و نظریاتی تنظیم کو اس سے استثنیٰ کیوں حاصل ہو۔
اجے کمار للو نے آر ایس ایس کی تاریخ، اس کے نظریاتی کردار اور مختلف تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے بارے میں ماضی سے ہی مختلف سوالات اٹھتے رہے ہیں، جن کی قانونی جانچ اور کھلی بحث ضروری ہے۔ ان کے مطابق آر ایس ایس کو آئین اور قانون کے دائرے میں لانا قومی یکجہتی اور جمہوری شفافیت کے مفاد میں ہوگا۔
قانونی حیثیت کی بحث شدت اختیار کرسکتی ہے
آر ایس ایس اور اس سے وابستہ حلقے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور خود کو ایک سماجی و ثقافتی تنظیم قرار دیتے ہیں جو قومی خدمت اور سماجی ہم آہنگی کیلئے کام کرتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کرناٹک میں شروع ہونے والی یہ بحث اب دیگر ریاستوں میں بھی شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے آر ایس ایس کی قانونی حیثیت اوراس کے تنظیمی ڈھانچے پر قومی سطح پر نئی سیاسی بحث کےجنم لینے کے امکانات ہیں۔کھرگے کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے یہ عجیب وغریب منطق پیش کی ہے کہ چونکہ یہ تنظیم حکومت سے فنڈ نہیں لیتی اس لئے اسے رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی مہم کو تائید
آر ایس ایس سربراہ کے نام پریانک کھرگے کے مکتوب سے سوشل میڈیا پر بھی اس تنظیم کے رجسٹرڈ نہ ہونے پر بحث چھڑ گئی ہے۔پریانک کھرگے نے موہن بھاگوت کو مکتوب روانہ کرنے کے ساتھ ہی سوشل میڈیاپر بھی اسے پوسٹ کردیاتھا۔ انہوں نے آر ایس ایس کو قانونی طور پر رجسٹرڈ کرنے ، فنڈنگ کے ذرائع بتانے اور ضروری ٹیکس ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر آر ایس ایس کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے، اس کیلئے ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے تو پھروہ فنڈنگ کے اپنے ذرائع کو عام کیوں نہیں کردیتا۔ حیدرآباد میں کانگریس کی مقامی اکائی کے صدر نے بھی پریانک کھرگے کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے قانون اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے ضروری سوال اٹھایا ہے۔
آر ایس ایس کو مکتوب ریاستی حکومت نے بھیجا ہے
اس بیچ کرناٹک کے وزیر برائے آئی ٹی اور دیہی ترقی پریانک کھرگے نے منگل کو واضح کیا کہ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ کو جو مکتوب روانہ کیا ہے وہ ذاتی حیثیت سے نہیں بھیجا بلکہ ریاستی وزیر کی حیثیت سے بھیجا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ باالفاظ دیگر یہ ریاستی حکومت کا مکتوب ہے جس پرسنگھ سرچالک کو سوچ سمجھ کر جواب دینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ آر ایس ایس کی فنڈنگ میں شفافیت چاہتے ہیں تاہم کرناٹک میںاس پر پابندی لگانے کا ان کا ابھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پریانک کھرگے نے واضح کیا کہ آر ایس ایس سربراہ کو لکھے گئے سرکاری خط کا مقصد چند بنیادی