Updated: July 28, 2026, 10:03 PM IST
| Thiruvananthapuram
آر ایس ایس نے کہا کہ موہن داس، ہندوتوا نظریہ دان جس نے سی جے پی مظاہرین کو گولی مارنے کی خواہش ظاہر کی، سنگھ کا عہدیدار نہیں ہے، حالانکہ موہن داس بی جے پی کے انٹلیکچوئل سیل کا سابق ریاستی کنوینر اور بھارتیہ وچارا کیندرام کا سابق عہدیدار ہے، جس کے آر ایس ایس سے قریبی تعلقات ہیں۔
ٹی جی موہن داس۔ تصویر: ایکس
آر ایس ایس نے منگل کو ٹی جی موہن داس سے لاتعلقی کا اظہار کیا، جو ایک دائیں بازو کا سیاسی مبصر ہے اور جس نے مبینہ طور پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کو گولی مارنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ جو خواتین ’’عصمت دری کو پسند کرتی ہیں‘‘ وہ بھی احتجاج کا حصہ تھیں۔سینئر سنگھ عہدیدار کے بی سری کمار نے ایک بیان میں کہا کہ’’ موہن داس کسی بھی سطح پر آر ایس ایس کا عہدیدار نہیںہے۔‘‘ سری کمار نے ایک بیان میں کہا کہ ’’حالیہ احتجاج پر ٹی جی موہن داس کے تبصرے ان کی ذاتی آراء ہیں۔ وہ کسی بھی سطح پر آر ایس ایس کے عہدیدار نہیں ہیں۔ آر ایس ایس ان کے خیالات سے متفق نہیں ہے اور ان کی ہر ممکن حد تک مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت کا جین زی اور سی جے پی احتجاج پر سخت حملہ
واضح رہے کہ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موہن داس بی جے پی کے انٹلیکچوئل سیل کا سابق ریاستی کنوینر اور بھارتیہ وچارا کیندرام کا سابق عہدیدار ہے، جس کے آر ایس ایس سے قریبی تعلقات ہیں۔اسے ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے دیکھا گیاکہ ’’میں جنتر منتھر کے ارد گرد ۴؍ مربع کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کروں گا۔ میں بھیڑ کو تین بار منتشر ہونے کو کہوں گا۔ پھر میں گولی چلاؤں گا۔ کچھ مر جائیں گے، کچھ بچ جائیں گے، کچھ معذور ہو جائیں گے۔ چار گھنٹوں میں صورتحال قابو میں آ جائے گی۔ لاشیں جمع کر کے اسپتال لے جائی جائیں گی۔‘‘ مزید برآں بائیں بازو اور سیکولر گروپوں کو نشانہ بناتے ہوئے، اس نے ’’اجتماعی عصمت دری‘‘ کے بارے میں بھی بات کی اور اعلان کیا کہ ایسی خواتین بھی ہیں جو ’’عصمت دری کو پسند کرتی ہیں۔‘‘
تاہم بعد میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے بیان کو توڑا مروڑا گیا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اور یہ کہ وہ اپنی بات پہنچانے کے لیے طنز کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہاتھا۔ بعد ازاں موہن داس کےبیان نے کیرالا اور سوشل میڈیا پر وسیع احتجاج کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں سی پی آئی کے حامی طلبہ تنظیم آل انڈیا سٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی۔شکایت کے مطابق، احتجاج کرنے والے طلبہ پر ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعے فائرنگ کی عوامی طور پر وکالت کرنا، جس کے نتیجے میں اموات اور شدید زخمی ہونے کا امکان ہو، ایک انتہائی خطرناک بیان ہے جو تشدد کو فروغ دیتا ہے، انسانی زندگی کی قدر کو کم کرتا ہے اور خوف اور سماجی بدامنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید برآں اے آئی ایس ایف نے موہنداس کے خلاف تمام قابل اطلاق قانونی دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور اس یوٹیوب چینل کی تحقیقات کا حکم دیا جس نے یہ بیان نشر کیا، ویڈیو کا ماخذ، ڈیجیٹل ریکارڈز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی گردش۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: آر ایس ایس لیڈر کے جنتر منتر کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم
جبکہ کیرالا کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے بھی موہن داس کے بیان کی مذمت کی ہے اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔فیس بک پوسٹ میں وجین نے الزام لگایا کہ یہ بیانات سنگھ پریوار کی ’’اختلاف رائے کو ختم کرنے‘‘کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے یو ڈی ایف حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے آر ایس ایس کو خوش کرنے کے لیے پولیس اور قانونی نظام کو محض تماشائی بنا دیا ہے۔