Inquilab Logo Happiest Places to Work

سرکاری کمپنی ’او این جی سی‘ نے آر ایس ایس سے وابستہ ۲۰ تنظیموں کو ۶۷۰ کروڑ روپے کے عطیات دیئے: رپورٹ

Updated: July 20, 2026, 2:06 PM IST | New Delhi

رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ متعلقہ مدت کے دوران بی جے پی سے وابستہ افراد، او این جی سی کے بورڈ اور سی ایس آر کمیٹی میں عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان افراد میں بی جے پی ایم پی سمبت پاترا اور بی جے پی پنجاب کی لیڈر رینا جیٹلی شامل ہیں، جو ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء تک او این جی سی کی سی ایس آر کمیٹی کی سربراہ رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’دی نیوز منٹ‘ (The News Minute) کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری کمپنی ’آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن‘ (ONGC) نے ۲۰۱۳ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان اپنے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) فنڈز سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ۲۰ تنظیموں کو ۹۷ء۶۷۰ کروڑ روپے کا عطیہ دیا۔ یہ عطیات اسی مدت کے دوران دو ہزار سے زائد تنظیموں کو او این جی سی کی جانب سے دیئے گئے کل ۴۵۳۱ کروڑ روپے کے سی ایس آر فنڈز کا تقریباً ۷ء۱۴ فیصد ہیں۔

آر ایس ایس سے وابستہ ان ۲۰ تنظیموں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ۹ تنظیمیں براہِ راست آر ایس ایس سے الحاق شدہ ہیں، ۹ تنظیمیں ایسی ہیں جن کی بنیاد آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے رکھی یا وہ ان کی قیادت کر رہے ہیں اور ۲ تنظیمیں ایسی ہیں جنہوں نے سنگھ کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’کیا یہی وہ ہندو راشٹر ہے جو آپ چاہتے تھے ؟‘‘

ان میں سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والا واحد ادارہ آسام کے ضلع شیوساگر میں واقع ’سورگادیو سیو-کا-پھا اسپتال‘ ہے، جسے ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ۴۳۴ کروڑ روپے کے عطیات دیئے گئے۔ یہ اسپتال مشترکہ طور پر ’ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ویدیکیہ پرتیشتھان‘ کے زیرِ انتظام چلایا جاتا ہے، جو خود کو ”آر ایس ایس کے فلسفے سے متحرک“ قرار دیتا ہے۔ 

سب سے زیادہ رقم حاصل کرنے والی تنظیموں کی فہرست میں دوسرے مقام پر ناگپور میں واقع ’ڈاکٹر آباجی تھاٹے سیوا و انوسندھان سنستھا‘ ہے۔ اس کا نام آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولولکر کے پرسنل اسسٹنٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس ادارے نے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے قیام کیلئے ۱۴۰ کروڑ روپے حاصل کئے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح اپریل ۲۰۲۳ء میں آر ایس ایس کے موجودہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور گوتم اڈانی کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سوئس خاتون کارپوریٹ جاب چھوڑ کر ہندوستان آگئیں، مغربی بنگال میں مفت اسکول قائم کیا

او این جی سی کی جانب سے فنڈز حاصل کرنے والے دیگر اداروں میں ’سوامی وویکانند یوگا انوسندھان سنستھان‘ (۵۳ء۱۵ کروڑ روپے)، ’سیوا بھارتی‘ (۹۵ء۱۳ کروڑ روپے)، ’راشٹروتھان پریشد‘ (۶ء۱۱ کروڑ روپے)، ’ایکل ودیالیہ فاؤنڈیشن‘ (۶۹ء۸ کروڑ روپے) اور ہماچل پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ شانتا کمار کا قائم کردہ ’وویکانند میڈیکل ریسرچ ٹرسٹ‘ (۴۷ء۷ کروڑ روپے) شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ متعلقہ مدت کے دوران بی جے پی سے وابستہ افراد، او این جی سی کے بورڈ اور سی ایس آر کمیٹی میں عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ان افراد میں بی جے پی ایم پی سمبت پاترا اور بی جے پی پنجاب کی لیڈر رینا جیٹلی شامل ہیں، جو ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء تک او این جی سی کی سی ایس آر کمیٹی کی سربراہ رہے ہیں۔

خبر لکھے جانے تک، او این جی سی نے تبصرے کیلئے کی جانے والی متعدد درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK