• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی وزیر کینیڈی کا دعویٰ: ۵۰ کروڑ عربوں نےسائنس میں کچھ کام نہیں کیا؛ عالمی سطح پر تنقید کا سامنا

Updated: October 28, 2026, 7:03 PM IST | Washington

کینیڈی کے اس گمراہ کن بیان کی ناقدین نے سخت مذمت کی اور سائنس و ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی عرب شخصیات کے نام گنوائے۔ ناقدین نے فوری طور پر متعدد عرب نوبیل انعام یافتگان کی نشان دہی کی جن میں مصری مصنف نجیب محفوظ (ادب، ۱۹۸۸ء)، مصری نژاد امریکی سائنس دان احمد زیویل (کیمیا، ۱۹۹۹ء)، اردن میں پیدا ہونے والے کیمیا دان عمر یاغی (کیمیا، ۲۰۲۵ء، اور وولف پرائز ۲۰۱۸ء)، یمنی کارکن توکل کرمان (امن، ۲۰۱۱ء) اور سفارت کار محمد البرادعی (امن، ۲۰۰۵ء) سمیت دیگر شامل ہیں۔ لبنانی نژاد ریاضی دان مائیکل عطیہ نے ۱۹۶۶ء میں فیلڈز میڈل حاصل کیا تھا۔

Robert F. Kennedy Jr.Photo: X
رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر۔ تصویر: ایکس

امریکی ریاست مشی گن کے شہر گرانڈ ریپڈز میں ریپبلکنز کی ایک انتخابی مہم کی تقریب کے دوران، امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے سائنس اور ادب میں عربوں کی شراکت سے متعلق متنازع بیان نے وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل بڑے پیمانے پر مذمت کو جنم دیا ہے۔ کینیڈی نے پیر کے روز بیان دیا کہ ”دنیا میں ۵۰ کروڑ عرب ہیں لیکن پھر بھی وہ سائنس پیدا نہیں کرتے۔ وہ نوبیل انعام نہیں حاصل کرتے۔ وہ فیلڈز پرائز نہیں جیتتے۔ وہ وولف پرائز نہیں جیتتے۔ وہ ادب تخلیق نہیں کرتے۔“

یہ بھی پڑھئے: مسافروں کی جان بچانے والے کپتان سمت مچھار کو متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ اعزاز

کینیڈی نے یہ تبصرے عرب امریکیوں کی بڑی آبادی والی ریاست میں مشی گن سینیٹ کے امیدوار مائیک راجرز کی انتخابی مہم کے دوران کئے اور اس دعوے کو اپنے حریف کے اخوان المسلمون سے مبینہ تعلقات کے الزامات سے جوڑ دیا۔ ان کے اس بیان کی ناقدین نے سخت مذمت کی اور سائنس و ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی عرب شخصیات کے نام گنوائے۔ ناقدین نے فوری طور پر متعدد عرب نوبیل انعام یافتگان کی نشان دہی کی جن میں مصری مصنف نجیب محفوظ (ادب، ۱۹۸۸ء)، مصری نژاد امریکی سائنس دان احمد زیویل (کیمیا، ۱۹۹۹ء)، اردن میں پیدا ہونے والے کیمیا دان عمر یاغی (کیمیا، ۲۰۲۵ء، اور وولف پرائز ۲۰۱۸ء)، یمنی کارکن توکل کرمان (امن، ۲۰۱۱ء) اور سفارت کار محمد البرادعی (امن، ۲۰۰۵ء) سمیت دیگر شامل ہیں۔ لبنانی نژاد ریاضی دان مائیکل عطیہ نے ۱۹۶۶ء میں فیلڈز میڈل حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نائیجیریا: اسلامی مبلغ یحییٰ مسوسوکا کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا

’پروٹیکٹ آور کیئر‘ کے صدر بریڈ ووڈ ہاؤس نے اسے کینیڈی کے نسل پرستانہ بیانیے کا ”اب تک کا سب سے بدصورت باب“ قرار دیا۔ ڈاکٹر پیٹر ہوٹیز نے نشان دہی کی کہ قرونِ وسطیٰ میں عرب سائنس دانوں نے ارسطو، بقراط اور جالینوس کے کاموں کو محفوظ کیا۔ کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (کیئر) نے کینیڈی کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے ریمارکس کو ”من گھڑت، سفید فام برتری پسند بیانیے“ کے ذریعے ”نصف ارب انسانوں کی تذلیل“ قرار دیا۔

ماہرینِ تعلیم نے الجبرا، مثلثیات (trigonometry)، بصریات (optics) اور فلکیات میں اسلامی عہدِ زریں کی بنیادی خدمات کی طرف بھی اشارہ کیا جن شعبوں کی بنیادی اصطلاحات بشمول ”الجبرا“ اور ”الگورتھم“ کا ماخذ خود عربی زبان ہے۔ سعودی بااثر شخصیت ایاد الحمود نے اینستھیزیا، اسپتالوں کے نظام اور تجریبی کیمیا سمیت دیگر شراکتوں کی فہرست پیش کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا

کینیڈی بدھ کو ڈیس موئنز میں ”میک آئیووا ہیلتھی اگین ریلی“ میں شرکت کرنے والے ہیں۔ محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK