دہلی: بھیانک آتشزدگی میں ۲۷؍ اموات کے بعد انتظامیہ چوکس، ۲؍ گرفتار

Updated: May 15, 2022, 9:53 AM IST | new Delhi

مُنڈکا میں غم و اندوہ کی لہر، ۱۱؍ افراد اسپتال داخل ، مہلوکین کے ورثاء کیلئے ۱۰۔۱۰؍ لاکھ روپے معاوضے کا اعلان ، میونسپل کارپوریشن نے فائر آڈٹ رپورٹ طلب کی

Outside the hospital, grieving women are waiting for information on the missing persons in the accident. (PTI)
اسپتال کے باہر غمزدہ خواتین حادثہ میں گمشدہ افراد کی معلومات کا انتظار کررہی ہیں۔(پی ٹی آئی )

 دہلی کے مُنڈکا علاقے میں میٹرواسٹیشن کے قریب سہ منزلہ کمرشیل بلڈنگ میں  بھیانک آتشزدگی کے نتیجے میں  ۲۷؍ افراد کے زندہ جل جانے کے معاملے  کے بعد شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن (این ڈی ایم سی ) چوکس ہوگیاہے اور اس نے نریلا زون اتھاریٹیز سے معاملے کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جس میں عمارت کی تعمیر کا سال اور رقبے کی معلومات بھی شامل ہے۔اس کے ساتھ ہی انتظامیہ نے فائر آڈٹ رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔     حادثے میں گمشدہ ہونے والے افراد کے رشتہ دارسنجے گاندھی میموریل اسپتال کے باہر معلومات کاانتظار کررہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اب بھی ۲۹؍ افراد لاپتہ ہیں ۔ اس معاملے میں ۲؍بھائیوں کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاع ملی ہےجبکہ ۱۱؍افراد کو اسپتال داخل کیا گیا ہے۔  پورے علاقے میں غم کی لہر ہے۔
  دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے سنیچر کو منڈکا جائے حادثہ کا دورہ کیا اور آتشزدگی میں جان گنوانے والوں کے لئے اپنے گہرے غم  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی دردناک اور چونکا دینے والا ہے۔ جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد کیجریوال نے نامہ نگاروں سے کہا کہ جمعہ کو رات  یہاں انتہائی دردناک حادثہ پیش آیا۔ عمارت کے اندر آگ لگ گئی تھی۔ آگ بہت بھیانک تھی جس کی وجہ سے کئی افراد کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔ کئی لاشیں اس قدر مسخ ہو چکی ہیں کہ ان کی شناخت تک نہیں ہو سکی ہے۔ جو جو افراد گمشدہ کی رپورٹ کررہے ہیں ان لوگوں کی مدد کے لئے ہم نے یہاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے ایک ہیلپ ڈیسک بھی قائم کی ہے۔ ایف ایس ایل کے ذریعے ڈی این اے کی جانچ کر کے پتہ چل سکے گا کہ کون سی لاش کس کنبہ کی ہے۔
 دہلی کے وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ میں بھگوان سے پرارتھنا کرتا ہوں کہ وہ مرنے والوں کی روح کو سکون دے۔ ان کے لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے۔ میں نے دہلی حکومت کی جانب سے پورے واقعہ کی مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین کو فی کس۱۰؍ لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی زخمی ہونے والوں کو۵۰۔۵۰؍ ہزار روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس واقعہ سے متعلق ۲؍ بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات میں جو لوگ قصوروار پائے جائیں گے انہیں بخشا نہیں جائے گا۔  میں تمام ڈی این اے وغیرہ تک مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ 

delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK