Updated: October 21, 2026, 8:14 PM IST
| New Delhi
کوگیٹو میڈیا فاؤنڈیشن نے صحافیوں پر ہوئی کارروائیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کر دیا ہے،اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر اور ایس آئی آر کے خلاف ہورہے احتجاجی مظاہروں کے دوران صحافیوں کے ساتھ بھی طرح طرح کی بدسلوکیاںہوئیں، تاہم انہیں رپورٹ کرنے سے روکا گیا ، کئی ڈجیٹل میڈیا چینلوں اور اداروں کے سوشل میڈیا پر بین لگایا گیا۔
کوگیٹو میڈیا فاؤنڈیشن(سی ایم ایف ) نے پریس کی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے، صحافیوں اور ڈجیٹل مواد کے تخلیق کاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک، پابندی یا محدود کئے جانے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے متاثرہ صحافیوں، ڈجیٹل میڈیا پروفیشنلز اور مواد کے تخلیق کاروں (کنٹینٹ کرئیٹرز) سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مقدمات کی تفصیلات، معاون دستاویزات اور اسکرین شاٹس کے ساتھ cogitomediafoundation@gmail.com پر ارسال کریں۔ اس معلومات سے تنظیم کو واقعات کے دستاویزات تیار کرنے اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے امکانات تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سوروداس، آشوتوش رانکا نے عدالتی حراست کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے درخواست واپس لی
ملت ٹائمز کے بانی اور سربراہ شمس تبریز قاسمی نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت عوامی مفاد کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے میڈیا اداروں اور آزاد صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔شمس تبریز قاسمی نے کہا، ’’حکومت اس میڈیا کی آواز کو دبانا چاہتی ہے جو سچائی کو سامنے لانا چاہتا ہے۔ یہ جمہوریت کے چوتھے ستون کیلئے ایک خطرہ ہے۔ آزاد صحافی عوام کیلئے اہم ہیںاور حکومت ان کی آوازوں کو دبانا چاہتی ہے۔‘‘ سی ایم ایف کی جانب سے بات کرتے ہوئے قاسمی نے کہا کہ فاؤنڈیشن ان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خدشات کو اٹھانے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرے گی جن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک یا بند کر دئیے گئے ہیں۔ سی ایم ایف نے کہا کہ وہ ان صحافیوں، ڈیجیٹل میڈیا اداروں اور مواد کے تخلیق کاروں کے معاملات کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ایک اجتماعی کوشش شروع کر رہا ہے جن کے سوشل میڈیا پیجز یا اکاؤنٹس کو بلاک، بین یا محدود کیا گیا ہے۔
بعد ازاں فاؤنڈیشن نے متاثرہ افراد اور اداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس یا چینلز کے لنکس، پلیٹ فارمز کی طرف سے کی گئی کارروائی کی تفصیلات، سرکاری نوٹس یا ای میلز، اسکرین شاٹس اور دیگر متعلقہ دستاویزات شیئر کریں۔ اس معلومات سے پابندیوں کی نوعیت کا اندازہ لگانے اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے راستے تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔سی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صحافیوں اور ڈجیٹل مواد کے تخلیق کاروں کے حقوق کا دفاع کرنا اور ان پابندیوں کے خلاف ایک اجتماعی ردِعمل تیار کرنا ہے جنہیں وہ غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔ یہ اعلان میڈیا پروفیشنلز میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی اور سامعین تک پہنچنے کی ان کی صلاحیت کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز آزاد صحافیوں اور ڈجیٹل نیوز اداروں کیلئے رپورٹس شائع کرنے، ویڈیوز پوسٹ کرنے اور قارئین کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ اکاؤنٹ معطل ہونے اور پابندیوں سے معلومات پہنچانے اور سامعین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی ان کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ سی ایم ایف نے کہا کہ وہ ڈجیٹل میڈیا کی آزادی کے تحفظ اور متاثرہ صحافیوں کو ان کے خدشات کو اجاگر کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۱؍ لاکھ طلبہ اسکو ل سے دور، محکمہ تعلیم کو تشویش
وہ صحافی، ڈجیٹل میڈیا پروفیشنلز اور مواد کے تخلیق کار جنہیں اس طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، یا جو ایسے ہی معاملات سے واقف ہیں، وہ متعلقہ تفصیلات اور معاون ثبوت ogitomediafoundation@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں۔ تاہم فاؤنڈیشن نے مخصوص قانونی کارروائیوں کی تفصیلات یا مقدمات دائر کرنے کیلئے کوئی وقت کی حد فراہم نہیں کی ہے۔