دہلی ہائی کورٹ نے خرم پرویز، جموں و کشمیر کے حقوقِ انسانی کارکن کی ضمانت منظور کرلی، وہ نومبر ۲۰۲۱ء میں قومی تفتیشی ایجنسی کے ذریعےیو اے پی اے کے تحت گرفتار کئے گئے تھے، ان پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور بھرتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 8:59 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ نے خرم پرویز، جموں و کشمیر کے حقوقِ انسانی کارکن کی ضمانت منظور کرلی، وہ نومبر ۲۰۲۱ء میں قومی تفتیشی ایجنسی کے ذریعےیو اے پی اے کے تحت گرفتار کئے گئے تھے، ان پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور بھرتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
`لائیو لاء کی رپورٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو خرم پرویز کو گرفتاری کے چار سال سے زیادہ عرصے بعد ضمانت دے دی۔ تاہم، انڈین ایکسپریس کے مطابق، وہ جیل فی الحال میں ہی رہیں گے کیونکہ ان پر۲۰۲۰ء میں درج ایک علاحدہ مقدمے میں بھی دہشت گردی مخالف قانون کے تحت الزامات ہیں۔ اس مقدمے میں وہ۲۰۲۳ء میں گرفتار ہوئے تھے۔عدالت کی ڈویژن بنچ نے خرم پرویز کی اس درخواست کو منظور کر لیا جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے دسمبر۲۰۲۴ء کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں ضمانت سے انکار کر دیا گیا تھا۔موجودہ مقدمے میں، خرم پرویز پر ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے، مجرمانہ سازش، اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان پر ہندوستانی تعزیراتِ قانون کے تحت حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے، اس کی کوشش کرنے، اس میں اکسانے، کسی کو دہشت گردانہ حرکت کے لیے بھرتی کرنے اور مجرمانہ سازش کے الزامات بھی تھے۔خرم پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے دہشت گرد تنظیم لشکرِطیبہ کی سرگرمیوں کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی کی ایک عدالت نے الفلاح گروپ کے سربراہ کی ضمانت مسترد کی
بعد ازاں این آئی اے نے ان پر ایجنٹوں کی بھرتی اور سحفاظتی دستوں اور فوجی تنصیبات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ جبکہ ایک علاحدہ مقدمے میں، مارچ ۲۰۲۳ء میں این آئی اے نے علاحدگی پسندانہ سرگرمیوں کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ خرم سری نگر میں قائم جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی سے وابستہ ہیں۔ضمانت کی درخواست میں خرم نے کہا کہ وہ مبینہ سازش سے حقیقتاً انجان ہیں اور بتایا کہ تفتیش کار ان کے اور دہشت گرد گروپ کے ایجنٹوں کے درمیان کوئی رابطہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ڈجیٹل آلات کی جانچ سے مبینہ رابطہ کاروں کے ساتھ بات چیت یا زیرِ زمین کارکنوں کی بھرتی کا کوئی ثبوت نہیں ملے گا۔ جبکہ خرم نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ماضی میں پاکستان کے دورے انہیں ممنوعہ تنظیموں سے جوڑ سکتے ہیں، اور کہا کہ یہ دورے انسانی ہمدردی اور وکالت کے اقدامات کا حصہ تھے۔خیال رہے کہ۲۰۱۶ء میں، حزب المجاہدین کے عسکریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے دوران، ان کے خلاف عوامی تحفظ ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ اس وقت۷۶؍ دن تک حراست میں رہے تھے۔