Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی کی ایک عدالت نے الفلاح گروپ کے سربراہ کی ضمانت مسترد کی

Updated: June 10, 2026, 4:09 PM IST | New Delhi

دہلی کی ایک عدالت نے الفلاح گروپ کے سربراہ جواد احمد صدیقی کی ضمانت مسترد کر دی، کورٹ کاکہنا ہے کہ بیوی کے کینسر کی دیکھ بھال کے لیے ان کی موجودگی ضروری نہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دہلی کی ایک عدالت نے منگل کو الفلاح یونیورسٹی کے چیئرپرسن جواد احمد صدیقی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جو۴۹۳؍ کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ معاملے میں ملزم ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان صدیقی کی وہ درخواست سن رہی تھیں جس میں انھوں نے اپنی بیوی کی دیکھ بھال کے لیے چھ ہفتوں کی عبوری ضمانت مانگی تھی، جو اسٹیج-۴؍ میٹااسٹیٹک اووریئن کینسر میں مبتلا ہیں۔عدالت نے کہا کہ صدیقی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ کینسر کے علاج کے دوران ان کی بیوی کو صرف انہی کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اگرچہ صدیقی کی بیوی ایک سنگین بیماری کا علاج کروا رہی ہیں، طبی ریکارڈز کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور اس سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ وہ لاعلاج مرض میں مبتلا ہیں، بستر پر پڑی ہیں یا اپنے روزمرہ کے معمولات سے نمٹنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں: ڈرگس ریکٹ میں ملوث ایجنٹوں کی ناجائز تجاوزات پر بلڈوزرکارروائی

واضح رہے کہ صدیقی کو فروری میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے الفلاح یونیورسٹی میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور مارچ میں ای ڈی نے انھیں تحویل میں لے لیا تھا۔الفلاح گروپ۱۰؍ نومبر کو دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے دھماکے سے منسلک تفتیش میں بھی زیرِ غور ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب پتہ چلا کہ ڈاکٹر عمر نبی نامی ایک شخص، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دھماکے والی کار چلا رہا تھا، اس ادارے میں ملازم تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے دائر منی لانڈرنگ معاملہ دہلی پولیس کی دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) پر مبنی تھا، جن میں الزام تھا کہ الفلاح یونیورسٹی نے قومی تشخیص اور اعتماد کونسل (این اے اے سی) سے تسلیم شدگی کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) ایکٹ کے تحت اپنی اہلیت کے بارے میں غلط بیانی کی تھی۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ الفلاح یونیورسٹی کو صرف ایک ریاستی نجی یونیورسٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور وہ کبھی بھی مرکزی گرانٹس کی اہل نہیں رہی۔بعد ازاں مرکزی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ’’ صدیقی الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ، الفلاح یونیورسٹی (بشمول الفلاح اسکول آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ سینٹر) اور متعلقہ اداروں پر غالب کنٹرول رکھتے تھے، اور غیر قانونی محصولات کے اہم فائدہ اٹھانے والے پائے گئے ہیں۔‘‘ مزید برآںایجنسی نے الزام لگایا کہ منیجنگ ٹرسٹی اور چانسلر کے طور پر، انھوں نے مکمل انتظامی، مالی اور آپریشنل کنٹرول استعمال کیا، جبکہ دیگر عہدیداران برائے نام یا پروکسی افراد کے طور پر کام کرتے تھے۔‘‘ مزید کہا گیا کہ۱۱۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم خاندان کے زیرِ کنٹرول فرموں کو بھیجی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: پونے :عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کی کارروائی پر تشویش

یاد رہے کہ دہلی لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں۱۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دھماکے کے سلسلے میں کم از کم نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔دھماکے سے چند گھنٹے پہلے، پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس نے فریدآباد اور اتر پردیش کے سہارنپور میں ایک بین ریاستی اور بین الاقوامی دہشت گردی ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے اس وقت کہا تھا کہ اس نے کئی ریاستوں میں چھاپوں کے دوران۲۹۰۰؍ کلوگرام دستی بم بنانے والا مواد برآمد کیا ہے۔اس کے علاوہ اپنی تفتیش کے دوران، پولیس نے الزام لگایا تھا کہ اس معاملے کے کلیدی مشتبہ افراد، جن میں نبی بھی شامل تھے، جو ایک فیکلٹی ممبر تھے، نے ہریانہ کے فریدآباد میں الفلاح میڈیکل کالج کے کیمپس کے ایک کمرے کو  متعدد دھماکوں کے لیے امونیم نائٹریٹ کی ترسیل کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا۔ یہ کالج الفلاح یونیورسٹی کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK