• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی ہائی کورٹ نے سمیر وانکھیڈے کی عرضی پر سماعت سے انکار کردیا

Updated: January 29, 2026, 4:22 PM IST | Mumbai

انڈین ریونیو سروس (آئی آر ایس) افسر سمیر وانکھیڈے نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے پروڈکشن ہاؤس ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے اس عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا۔

Sameer Wankhede.Photo:INN
سمیر وانکھیڈے۔ تصویر:آئی این این

انڈین ریونیو سروس (آئی آر ایس) افسر سمیر وانکھیڈے نے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے پروڈکشن ہاؤس ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے اس عرضی پر سماعت سے انکار کر دیا۔ جسٹس پرشیندر کمارکوراو کی سنگل بنچ نے حکم دیا کہ اس کیس کو اُس عدالت میں منتقل کیا جائے جو اس نوعیت کے معاملے کی سماعت کی درست دائرۂ اختیار رکھتی ہو۔ عدالت نے کہا کہ یہ کیس دوبارہ متعلقہ اور مجاز عدالت میں دائر کیا جانا چاہیے۔
وانکھیڈے نے الزام لگایا ہے کہ ویب سیریز ’’دی بیڈز آف بالی ووڈ‘‘ میں ان کے خلاف جان بوجھ کر غلط اور توہین آمیز مواد دکھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس ویب سیریز نے نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچایا بلکہ ان کے خاندان پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سیریز میں مرکزی نارکوٹکس بیورو کی شبیہ کو منفی انداز میں پیش کیا گیا، جس سے عوام کا قانون اور سرکاری ایجنسیوں پر اعتماد کمزور ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:عادل حسین کوفلم ’’لکڑبگھا۲ ‘‘میں ملند سومن کی جگہ شامل کیا گیا

وانکھیڈے نے عدالت سے مستقل حکم امتناعی اور ہرجانے کی مانگ کی تھی۔ اس درخواست میں ریڈ چلیز انٹرٹینمنٹ، نیٹ فلکس، ٹویٹر (اب ایکس کارپوریشن)، گوگل، فیس بک اور دیگر متعلقہ فریقین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ویب سیریز میں جان بوجھ کر ان کے خلاف جانبدارانہ اور توہین آمیز مواد دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یوجی سی گائیڈ لائنس کیخلاف اترپردیش میں اعلیٰ ذاتوں کے احتجاج میں شدت

سمیر وانکھیڈے اور آرین خان کیس اس وقت بامبے  ہائی کورٹ اور خصوصی این ڈی پی ایس کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ شکایت میں انہوں نے سیریز کے ایک منظر کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں ایک کردار ’ستیہ میو جیتے‘ کہتا ہے اور اس کے فوراً بعد فحش اشارہ کرتا ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق یہ نہ صرف ان کی توہین ہے بلکہ قومی نشان اور اس نعرے کی بھی بے حرمتی ہے۔ اس طرح کی حرکتیں ہندوستانی  قانون کے تحت جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔وانکھیڈے نے عدالت سے ۲؍ کروڑ روپے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ٹاٹا میموریل کینسر اسپتال کو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے عطیہ کی جائے گی۔دہلی ہائی کورٹ نے  فریقین کے دلائل سننے کے بعد۲؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اب عدالت نے معاملہ درست دائرۂ اختیار رکھنے والی عدالت کو منتقل کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کیس اگلی  قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت میں آگے بڑھے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK