• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج کو روکنے کیلئے دہلی پولیس کی بسوں اور’ پی جی‘ پر نظر

Updated: October 08, 2026, 12:24 PM IST | Agency | New Delhi

مکان مالکان کو طلبہ کو۱۰؍ اکتوبر کے مظاہرہ میں شریک نہ ہونے دینے کی ہدایت، ۲۸؍ سو افراد پر نظر ، تحویل میں لیا جاسکتاہے۔

An atmosphere of protest has prevailed in Delhi since Monday; the accompanying photo shows the Congress protest held on Wednesday. Photo: INN
دہلی میں احتجاج کا ماحول پیر سے ہی بنا ہوا ہے، زیر نظر تصویر بدھ کو کانگریس کے احتجاج کی ہے۔ تصویر: آئی این این

دہلی پولیس نے کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے۱۰؍ اکتوبر  کے احتجاج کے پیش نظر شہر بھر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ پولیس نے تھانہ انچارجز   کو ہدایت دی ہے کہ مبینہ مجرمانہ پس منظر رکھنے والے مظاہرین پر نظر رکھیں، نئی دہلی ضلع کی جانب جانے والی بسوں کی نقل و حرکت اور بکنگ کی نگرانی کریں اور تعلیمی اداروں اور پیئنگ گیسٹ (پی جی) رہائش گاہوں کے مالکان سے رابطہ کرکے طلبہ کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کی کوشش کریں۔

پولیس حکام کے مطابق سینئر افسران نے ایس ایچ اوز سے خاص طور پر کہا ہے کہ فیشل ریکگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) کے ذریعے مجرمانہ پس منظر رکھنے والے تقریباً۲۸۰۰؍ افراد کی شناخت کی گئی ہے، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:غیر قانونی حراست پر یوپی پولیس کی پھر سرزنش، جرمانہ

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ایس ایچ اوز سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایسے لوگوں کی شناخت کرکے ان پر نظر رکھیں جو احتجاج میں شریک ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر ان افراد پر جن کا  سابقہ ریکارڈ ہے۔ مقصد یہ جاننا ہے کہ احتجاجی مقام کی طرف کون اور کہاں سے آ رہا ہے۔“

ہدایات میں مقامی بس آپریٹروں کی نگرانی اور بکنگ کی جانچ بھی شامل ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ بسیں کون کرائے پر لے رہا ہے اور ان کی منزل کیا ہے۔ پولیس کو یہ بھی معلوم کرنے کو کہا گیا ہے کہ کیا ۱۰؍ اکتوبر کے احتجاج کیلئے گروپوں کو دہلی، خاص طور پر نئی دہلی میں کہاں لایا جارہاہے تاکہ انہیں وہیں روکا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK