۳۱؍ گھنٹے کی غیر قانونی حراست کے بعد گرفتار کئے گئےشخص کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم، ایس ایچ او کو ڈانٹا کہ ’’آپ کو شرم آنی چاہئے‘‘
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 12:21 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow
۳۱؍ گھنٹے کی غیر قانونی حراست کے بعد گرفتار کئے گئےشخص کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم، ایس ایچ او کو ڈانٹا کہ ’’آپ کو شرم آنی چاہئے‘‘
اتر پردیش پولیس کو پھر الہ آباد ہائی کورٹ میں سرزنش اور جرمانہ کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے ۳۱؍ گھنٹے تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے بعد گرفتار کئے گئے ایک شخص کو فوراً رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ۳۰؍ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت نے ایک دوسرے معاملہ میں نوئیڈا پولیس کے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ’’آپ کوشرم آنی چاہیے۔‘‘ دونوں معاملات میں جسٹس اتل سری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی بنچ نے واضح کیا کہ پولیس کسی شخص کو پہلے غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر بعد میں باضابطہ گرفتاری یا ریمانڈ کے ذریعہ غیر قانونی حراست کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتی۔
ایف آئی آر کے اندراج سے قبل گرفتاری
پہلا معاملہ گوتم بدھ نگر کمشنریٹ کے فیز۔۲؍ تھانے سے متعلق ہے جس میں درخواست گزار دیپک نے اپنی غیر قانونی حراست اور بعد میں کی گئی گرفتاری کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق دیپک اور چار دیگر افراد کو ۲۳؍ اگست ۲۰۲۶ء کو شام ۷ ؍بجے کے قریب مختلف دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا ۔ تاہم اسی معاملے کی ایف آئی آراسی رات ۹؍ بج کر ۳۹؍ منٹ پر ایک شخص کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی۔ اس طرح پولیس کے اپنے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ دیپک کو ایف آئی آر درج ہونے سے تقریباً ۲؍گھنٹے پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا تھا۔ بعد میں اسی ایف آئی آر میں اسے باضابطہ طور پر گرفتار ظاہر کیا گیا۔ عدالت نے حراست کے قانونی جواز اور پولیس کی جانب سے اختیار کئے گئے طریقہ کار پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گرفتاری کرنے والے پولیس اہلکار نے زیر حراست افراد کو پوچھ گچھ کے دوران اپنی پسند کے وکیل سے رابطہ کے حق سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ ان تمام خامیوں پر عدالت نے پولیس افسران سے سخت سوالات کیے اور کہا، ’شرم آنی چاہیے آپ کو‘۔ تمام ریکارڈ اور پولیس کارروائی میں تضادات کو دیکھتے ہوئے عدالت نےحبس بیجاکی درخواست منظور کی اور حراست کو غیر قانونی قرار دے کردیپک کی فوری رہائی کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھئے:۲۰۲۶ء: ہندوستان کے سیوریج، سیپٹک ٹینکوں اور تنگ نالیوں میں ۱۲۵؍ افراد جاں بحق
عدالت سے رجوع کے بعد قانونی گرفتاری
دوسرا معاملہ الہ آباد کے’ سوراؤں‘ تھانے کا ہے۔ درخواست گزار کاالزام ہےکہ اسے ۱۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ایودھیا سے پولیس نے حراست میں لے کر سوراؤں تھانے پہنچایا، لیکن باضابطہ گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔ ۱۵؍ ستمبر کو ہائی کورٹ میں حبس بیجاکی درخواست دائر کی اوراس کے اگلے دن یعنی ۱۶؍ ستمبر کو صبح ۱۰؍ بج کر ۴۵؍منٹ پر پولیس نے درخواست گزار کو باضابطہ طور پر گرفتار ظاہر کیا، جنرل ڈائری میں اندراج کیا، طبی معائنہ کرایا اور اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ مجسٹریٹ نے اسے عدالتی تحویل میں بھی بھیج دیا۔ ہائی کورٹ نے پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی جبکہ عدالت میں پولیس کی حلف ناموں سے بھی یہ بات واضح ہوئی کہ درخواست گزار گرفتاری سے قبل ہی تحویل میں تھا۔
اسٹیشن ڈائری میں اندراج نہیں کیاگیا
تحویل میں لئے جانے کے باوجود پولیس اسٹیشن ڈائری میں اس کا اندراج نہیں کیاگیاتھا جسےسوراؤں کے ایس ایچ او نے ’ ’غیر ارادی غلطی‘ قرار دیتے ہوئےقبول کیا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ بنچ نے کہا کہ’’ اس ریاست میں پولیس کا حال بہت خراب ہے۔ پولیس افسر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر کےقانون سے بچ نکلیں گے اوران کی جوابدہی طے نہیں ہوگی۔‘‘ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ کسی شخص کی ابتدائی حراست ہی غیر قانونی ہو تو اس کے بعد کی جانے والی گرفتاری اور ریمانڈ کاقانونی اعتبار متاثر ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ پولیس محض رسمی گرفتاری کے ذریعے غیر قانونی کارروائی کو درست نہیں بنا سکتی۔ عدالت نے الہ آباد کے پولیس کمشنر کو تحقیقات، غیر قانونی حراست کی ذمہ داری طے کرنے،عرضی گزار کو رہا کرنے اور خاطی افسران سے ۳۰؍ ہزار روپےکا معاوضہ وصول کرنے کا حکم دیا۔