• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی دہلی: مودی کی رہائش گاہ کے قریب ریس کورس مسجد کو چھ دن میں خالی کرنے کا حکم

Updated: October 20, 2026, 4:01 PM IST | New Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے چھ دن میں خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے مسجد اور متصل قبرستان کے تحفظ کیلئے مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے، جبکہ مسجد کے امام نے وقف بورڈ پر عدم توجہی کا الزام عائد کیا ہے۔

Interior of the historic Race Course Mosque. Photo: INN
تاریخی ریس کورس مسجد کا اندرونی حصہ۔ تصویر: آئی این این

 وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ایک تاریخی مسجد کو پیر، ۱۹؍ اکتوبر کو مبینہ طور پر بے دخلی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ اراضی و ترقی (ایل اینڈ ڈی او) نے مسجد کے احاطے کو ’’غیر مجاز‘‘ قرار دیتے ہوئے چھ دن کے اندر اسے خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریس کورس مسجد کا شمار نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کی ویب سائٹ پر درج تاریخی ورثے کی عمارتوں میں ہوتا ہے۔ تاہم، ۷؍ اکتوبر کو مسجد کی بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کردی گئی تھی جس کے بعد وہاں عبادت کیلئے آنے والوں کو درپیش مشکلات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ اخبار دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، ایل اینڈ ڈی او کا دعویٰ ہے کہ مسجد سرکاری اراضی پر قائم ہے۔ اس تنازع کے دوران مسجد کو تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کل جیو کا آئی پی او لانچ ہوگا، سرمایہ کاروں میں ۳۰؍ گنا زیاہ مانگ

جمعیۃ علمائے ہند کا مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ
جمعیۃ علمائے ہند نے ریس کورس مسجد اور اس سے متصل قبرستان کے تحفظ کیلئے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔ تنظیم کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد حکیم الدین قاسمی نے ایک یادداشت پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مقام کا ذکر۱۹۷۷ء کے دہلی گزٹ میں درج این ڈی ایم سی کی تاریخی ورثے کی فہرست اور وزارتِ اقلیتی امور کی جانب سے مرتب کردہ نظرثانی شدہ فہرست میں بھی موجود ہے۔ جمعیۃ نے اس معاملے میں دہلی وقف بورڈ اور این ڈی ایم سی سے رپورٹ طلب کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ تنظیم نے حکام پر زور دیا ہے کہ قانونی تنازع حل ہونے تک مسجد کو منہدم کرنے سمیت کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ دی ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، کرن رجیجو نے تنظیم کا موقف سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں ’’ہر ممکن کوشش‘‘ کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ قلعی کھل چکی ہے، ایس آئی آر فوراً منسوخ کریں‘‘

مسجد کے امام کا وقف بورڈ پر عدم توجہی کا الزام
دی ہندستان گزٹ کے مطابق، مسجد کے امام محمد ہارون نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل دہلی وقف بورڈ کے سامنے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وقف بورڈ نے پانی اور بجلی کی سپلائی منقطع کئے جانے کے سلسلے میں این ڈی ایم سی کو خط لکھنے کے علاوہ مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ ہارون نے کہا، ’’میں نے وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) سے بارہا درخواست کی، لیکن میری شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب پینے کا پانی بھی ختم ہوچکا ہے۔ مسجد تک آنے جانے کا راستہ بند کردیا گیا ہے، اس لئے کہیں اور سے پانی لانا بھی ممکن نہیں رہا۔ اس صورت حال نے مسجد آنے جانے میں شدید مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے سے ہندوستانی برآمدات پر ڈیوٹی ختم ہوگی

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے وقف بورڈ سے اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرنے کی اپیل کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے خود عدالت جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن ان کے مطابق وقف بورڈ نے نہ تو خود عدالت سے رجوع کیا اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی۔ مسجد کے امام نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ تاریخی ورثے کی عمارت ہے۔ ان کے مطابق، ۲۰۲۱ء میں کئے گئے ایک سروے میں بھی ریس کورس مسجد کو ’’غیر مجاز‘‘ یا ’’ناجائز قبضہ‘‘ قرار نہیں دیا گیا تھا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ہارون نے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’میں اپنے خیر خواہوں اور انصاف پسند لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس مسجد کو بچانے کیلئے کوشش کریں۔ میں نے اپنی جانب سے تمام ممکنہ کوششیں کی ہیں، لیکن مجھے شدید مایوسی ہے کہ وقف بورڈ، جسے ایسے معاملات سے نمٹنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، میرے اور اس مسجد کے ساتھ کھڑا نہیں ہورہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: میک لارین کی پانچ تاریخی فارمولا ون کاریں فروخت کرنے کا اعلان

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دیگر بے دخلی کی کارروائیاں 
مسجد سے متعلق تنازع اس بڑے پیمانے پر جاری بے دخلی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت وزیر اعظم کی رہائش گاہ واقع ریس کورس روڈ کے علاقے میں جھگیوں میں رہنے والے افراد کو بھی ہٹایا جارہا ہے۔ دی ہندوستان گزٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ نے پیر، ۱۹؍ اکتوبر کو شہری حکام کو علاقے سے جھگیوں میں رہنے والے افراد کو ہٹانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے ان افراد کی بازآبادکاری کیلئے تقریباً۴۵؍ کلومیٹر دور واقع ساودا گھیورا (Savda Ghevra) کی بازآبادکاری کالونی میں تعلیم، آمدورفت اور صفائی ستھرائی جیسی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی ہے، جہاں ان رہائشیوں کو منتقل کیا جانا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK