کل سے ۲؍ روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس، روسی صدر پوتن ۹؍ ماہ میںدوسری مرتبہ ہندوستان آئیں گے ، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے وزیر اعظم مودی کی یہ چند دنوں میں دوسری ملاقات ہو گی، چینی صدر شی جن پنگ گلوان واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان آئیں گے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 10:30 AM IST | Agency | New Delhi
کل سے ۲؍ روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس، روسی صدر پوتن ۹؍ ماہ میںدوسری مرتبہ ہندوستان آئیں گے ، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے وزیر اعظم مودی کی یہ چند دنوں میں دوسری ملاقات ہو گی، چینی صدر شی جن پنگ گلوان واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان آئیں گے۔
ہندوستان کی میزبانی میں کل سے(۱۲؍ اور ۱۳؍ ستمبر) شروع ہونے والے دو روزہ برکس اجلاس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں دنیا کے کئی اہم ممالک کے سربراہان، وزرائے اعظم اور اعلیٰ سطحی نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہندوستان آنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اس اجلاس میںشرکت کیلئے ۱۲؍ ستمبر کو نئی دلی تشریف لائیں گے۔برکس اجلاس کو ہندوستان کیلئے سفارتی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ یہاں عالمی معیشت، تجارت، توانائی، ترقی، سلامتی اور تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم مودی کی مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ ملاقاتوں پر بھی خصوصی نظر رہے گی۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والا برکس سربراہی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جب عالمی سطح پر تجارت، توانائی کی سلامتی، سپلائی چین، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی اقتصادی نظام میں تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ ہندوستان برکس کے ذریعے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور اسٹریٹیجک تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عالمی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیتا رہا ہے۔ ایسے میں نئی دہلی میں ہونے والا یہ اجلاس ہندوستان کیلئے سفارتی لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔
ایران اور روس کے صدورکی اہمیت
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان بھی ۱۲؍ ستمبر کو دہلی پہنچیں گے۔ یہاں ان کی بھی وزیر اعظم مودی سے ملاقات متوقع ہے۔ امریکہ سے جاری جنگ کے تناظر میں ایرانی صدر کا یہ دورہ انتہائی اہم ہے۔ ایران ویسے بھی ہندوستان کو اپنا سب سے اچھا دوست مانتا ہے اور ہندوستانی حکومت نے بھی وقتاً فوقتاً اس کا ثبوت دیا ہے۔ایرانی صدر نے گزشتہ دنوں کرغیزستان میںبھی وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی ۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی محض ۹؍ ماہ کے عرصے میں دوسری مرتبہ ہندوستان آرہے ہیں۔ روس ہندوستان کا سب سے بڑا دفاعی پارٹنر ہے اور اب تیل کی سپلائی میں بھی اہم حصہ دار بن گیا ہے۔