دہلی فساد :بی جے پی لیڈران پرشکنجہ کسنے کا امکان

Updated: December 18, 2021, 1:28 AM IST | new Delhi

مرکزی وزیرانو راگ ٹھاکر ، کپل مشرا ، پرویش ورما اور ابھے ورما کیخلاف ایف آئی آر کا فیصلہ کرنے کیلئےسپریم کورٹ نےدہلی ہائی کورٹ کو ۳؍ ماہ کی مہلت دی

Kapil Mishra`s statements and threats to police blamed for riots in Delhi
دہلی میں فساد کے لئے کپل مشرا کے بیانات اور ان کی جانب سے پولیس کو دی گئی دھمکیوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے

:سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ قومی راجدھانی دہلی میں نفرت انگیز تقاریر کے ذریعہ فسادات بھڑکانے میں ملوث مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر سمیت چاربی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنےکے مطالبہ والی درخواست پر تین ماہ کے اندر فیصلہ سنائے۔ اس ہدایت کے بعد یہ امید کی جارہی ہے کہ ان چاروں لیڈروں کے خلاف اب کوئی نہ کوئی کارروائی ہو گی کیوں کہ دہلی میںفساد بھڑکانے کا اصل ذمہ دار ان چاروں لیڈروں کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں فساد متاثرین کی طرف سے دائرکی گئی عرضی میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر ، بی جے پی لیڈر کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھے ورماکے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ایس آئی ٹی تشکیل کرکے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ انو راگ ٹھاکر نے ہی ’گولی مارو ...‘ جیسا متنازع بیان دیا تھا جبکہ کپل مشرا نے شاہین باغ تحریک کے خلاف مسلسل اشتعال انگیزی کرتے ہوئے فساد کو بھڑکانے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ 
 ہائی کورٹ کی جانب سے اس پٹیشن پر اب تک کوئی فیصلہ نہ آنے کی وجہ سے  اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوئی پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے شنوائی کی اور دہلی ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ’’ترجیحی بنیاد پر تین ماہ کے اندر‘‘ معاملے کی  سماعت کرے اور اپنا فیصلہ سنائے۔ قابل ذکر ہے کہ  فسادمتاثرین نے سپریم کورٹ  میں کہا کہ ہائی کورٹ ’کارروائی میں تاخیر‘ کر رہا ہے اور اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے جو حکم جاری کیا تھا اس کے مطابق شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔  عرضی گزاروں نے اس کے ساتھ ہی اپنی پٹیشن میں قومی راجدھانی میں فسادات  سے متعلق معاملات کی جانچ کے  لئے دہلی سے باہر کے افسران پر مشتمل ایک آزادانہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ 
 عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کولن گونزالویز نے عدالت میں کہاکہ عرضی گزار افراد فساد متاثرین ہیں اور وہ انصاف ملنے میں تاخیر کی وجہ سے جسٹس سسٹم پر اپنا اعتماد کھورہے ہیں۔ ان کی امیدیں ٹوٹتی جارہی ہیں۔ ‘‘کولن گونزالویز نے پٹیشن پیش کرتے ہوئے کئی اہم سوال بھی کئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اس معاملے میں انصاف نہیں ملا ہے جبکہ  جامعہ کے طلبہ کے  لئے انصاف کا کیا ہوا؟ دہلی فسادات کے متاثرین کو بھی  انصاف نہیں ملا، طلبہ کو بے دردی سے مارا گیا۔ ان کے سر پھوڑدئیے گئے۔ انہوں نے  یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال مارچ میں دہلی  ہائی کورٹ کو ایک مقررہ مدت میں فسادات کے معاملات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی اس کے باوجود ہائی کورٹ کارروائی میں تاخیر کر رہا ہے ۔ اس  دلیل پر سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس رٹ پٹیشن پر فی الحال ابھی اور اس اسٹیج میں غور کرنے  کے خواہاں نہیں  ہیںلیکن ہم ہائی کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ عرضی پرترجیحی بنیاد پر تین ماہ کے اندرفیصلہ کرے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال ۴؍مارچ کو بھی سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر ’’جس قدر جلد ممکن ہو‘‘ فیصلہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ طویل التوا کا کوئی جواز نہیں ہے۔  گونزالویز نے عدالت کے  رویے کو دیکھتے ہوئے  سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ ہائی کورٹ نےاس وقت کہا تھا کہ اس معاملے کی سماعت جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں پولیس مظالم کی تحقیقات کی درخواستوں کے بعد کی جائے گی۔تاہم جامعہ کا معاملہ بھی اب تک آگے نہیں بڑھا ہے جس کی وجہ سے تشویش پیدا ہونا فطری ہے اور اسی وجہ سے ہمیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔

delhi riot Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK