دہلی فساد: کپل مشرا اور خاطی پولیس اہلکاروں کیخلاف ایف آئی آر کیلئے پٹیشن

Updated: July 01, 2020, 8:17 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

کئی افراد عدالتوں سے رجوع، مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ ۱۵۶(۳) کے تحت شکایت درج کرائی، پولیس پر فسادیوں کا ساتھ دینے کا الزام

Kapil Mishra - Pic : INN
کپل مشرا ۔ تصویر : آئی این این

دہلی فساد کے الزام میں ایک طرف جہاں  شہریت ترمیمی ایکٹ  کے مظاہرین کی گرفتاریاںکی گئیں   اوران پر یو پی اے جیسا قانون لگایا گیا، وہیں کپل مشرا اور دیگر افراد جن پر اشتعال انگیزی کا الزام ہے  کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اس سلسلے میں   چند افراد نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایاہے اور مقامی مجسٹریٹ   کے ہاں ۱۵۶(۳)  کے تحت نجی شکایت درج کرائی ہے۔ساتھ ہی  دہلی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ وہ فسادیوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ 
 ان ہی میں سے ایک جامی رضوی جو دہلی فساد کے چشم دید گواہ ہیں، نے عدالت سے  بی جےپی لیڈر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی  ہے۔  اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جامی نے اپنی شکایت میں  کپل مشرا پر ’’اقلیتوں، دلتوں اور درج فہرست ذات وقبائل کے تعلق سے نفرت پھیلانے اوران کے خلاف دشمنی پیدا کرنے ‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ چونکہ خود فساد کے گواہ ہیں،اس لئے انہوں نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ ۲۳؍ فروری کی رات ۲۰؍ سے ۲۵؍ لوگوں کی بھیڑ نے اشتعال انگیز نعرے بازی کی ، ’’خواتین کو گالیاں دی گئیں، ملزم بندوق، تلوار، ترشول،  بھالے، کانچ کی بوتلوں، پتھر اور لکڑیوں سے لیس تھے، وہ کھلے عام فائرنگ کررہے تھے۔ انہوں نے اقلیتوں  اور دلتوں میں خوف کا ماحول پیدا کردیا۔‘‘
 لاک ڈاؤن کے سبب کورٹ نے اب تک ان معاملوں پر شنوائی نہیں کی ہے۔ پٹیشن میں  پولیس کو بھی برابر کا مجرم قرار دیتےہوئے کہاگیا ہےکہ فسادیوں کو روکنے کے بجائے ’’موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے ملزمین کیلئے راستہ صاف کیا اور مدد مانگ رہے بے قصور افراد پر ہی لاٹھیاں برسائیں۔ ‘‘ اس میں مزید کہاگیا ہے کہ کپل مشرا اوراس کے ساتھی بندوق،تلوار ، بوتلوں اور دیگر چیزوں سے لیس تھے۔ اکنامک ٹائمز نے جامی رضوی کی شکایت کی نقل تک رسائی حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں  نے  اپنی پٹیشن میں کہا ہے کہ ’’پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں اور دلتوں کی کاروں کی شناخت کی گئی،مسلمانوں کو اینٹی نیشنل کہاگیا، دلتوں پر ان کی ذات کی بنیاد پر فقرے کسے گئے، ان پر حملے کئے گئے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایاگیا۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK