دہلی فساد :کیس میں تساہلی اورملزم کی ہراسانی کا باعث بننے پر پولیس پر جرمانہ

Updated: October 19, 2021, 8:29 AM IST

بار بار کی نشاندہی کے باوجو داعلیٰ افسران کے دھیان نہ دینے پر کورٹ برہم، پولیس کمشنر استھانہ کو تفصیلی رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا

Delhi Riots.Picture:Inquilab
دہلی فساد تصویر انقلاب

 دہلی کی ایک عدالت نے یہ کہتے ہوئے پولیس پر دہلی فساد کے ملزم کو ’’غیر ضروری طور پر ہراساں‘‘کرنے کی پاداش میں جرمانہ عائد کردیا کہ فساد کے معاملوں میں پولیس کمشنر اور دیگر اعلیٰ افسران کو توجہ دینے کیلئے دی گئی تمام  ہدایتیں  اب تک صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ہیں۔ 
 چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ارون کمار گرگ نے شکایات کو علاحدہ علاحدہ کرنے  اور مزید جانچ  کے تعلق  سے  ملزمین کی اپیل پر تاخیر سے عمل کرنے پر  پولیس پر ۲۵؍ ہزار روپے کا جرمانہ عائدکیا اور ہدایت دی کہ جرمانہ کی رقم ساتوں  ملزمین  میں برابر برابر تقسیم کردی جائے۔  عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس کورٹ کی جانب سے دہلی فسادات سے متعلق معاملات میںنہ صرف ڈی سی پی(نار تھ ایسٹ دہلی) کو بلکہ جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ایسٹرن رینج) اور کمشنر آف پولیس ، دہلی تک کو  بار بار ہدایتیں جاری کی جاچکی ہیں اوران سے ذاتی طور پر ان معاملات کو دیکھنے کی اپیل کی گئی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ تمام ہدایتیں صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں۔‘‘۱۲؍اکتوبر کو جاری کئے گئے حکم میں عدالت نے دہلی کے پولیس کمشنر راکیش استھانہ کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ایک تفصیلی رپورٹ داخل کرکے یہ بتائیں کہ شمال مشرقی دہلی کے فساد کے معاملات کی مناسب جانچ ان کے مقدموں کی تیز رفتار شنوائی کیلئے کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔ 
 اس  کے ساتھ ہی کورٹ نے مرکزی حکومت کے داخلہ سیکریٹری کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ جانچ کریں کہ جرمانہ عائد کرنے کی نوبت کیوں آئی اور ذمہ دار افسر کی تنخواہ سے جرمانہ کی رقم کاٹی جائے۔ عدالت نے جرمانہ اس وقت عائد کیا جب پولیس نے دہلی فساد کے ایک کیس کی شنوائی یہ کہتے ہوئے ملتوی کرنے کی اپیل کی کہ اس میں عدالت کے ۱۰؍ستمبر کے حکم کے مطابق مزید جانچ باقی ہے۔ مذکورہ حکم میں کورٹ نے سوال کیا تھا کہ دہلی کے بھجن پورہ علاقے کے ۳؍ الگ الگ بلاکس  میں ہونےوالے فساد کے واقعات کو ایک ہی ایف آئی آر میں کیوں جوڑ دیاگیاہے؟ا س کے ساتھ ہی کورٹ نے عقیل احمدکی شکایت کو علاحدہ کرنے کا حکم دیاتھا

جج نےمنگل کو کہا کہ شنوائی کے دوران حالانکہ خصوصی وکیل استغاثہ نے بتایا کہ عقیل احمد کی شکایت کوعلاحدہ کردیاگیا ہے مگر تفتیشی افسر نے جو اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے اس میں اس کا کئی شائبہ تک نہیں ہے۔ جب تفتیشی افسر کو ہدایت دی گئی کہ ستمبر کے حکم کے بعد  اس نے جو جانچ کی ہے اس کی کیس ڈائری کورٹ میں پیش کرے تو اس نے حیرت انگیز طور پر بتایا کہ موجودہ کیس میں سیشن کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد ایسی کوئی کیس ڈائری لکھی ہی نہیں گئی۔ کورٹ نے اس پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’شکایتوں کو علاحدہ کرنے سے متعلق حکم کی تعمیل پر تفتیشی افسر اور خصوصی وکیل استغاثہ کی باتوں میں یکسانیت نہ  ہونے کی بنیاد پر  یہ ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ کے سامنے اب تک یہ صاف نہیں ہے کہ اسے مزید جانچ کیلئے اسے کس طرح آگے بڑھنا ہےاور مزید جانچ کے نام پر التوا کی درخواست مقدمے کو طول دینے کی حکمت عملی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ‘‘
  عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسرکو شکایتوں کو علاحدہ کرنے اورمزید جانچ کی اجازت دی جاتی ہے، مگر اس ضمن میں جو تاخیر ہوئی ہےاور اس کی وجہ سے ماخوذ کئے گئے شخص کو جس طرح کی ہراسانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جن میں سے ۲؍ اب بھی عدالتی تحویل میں ہیں،  اس کو دیکھتے ہوئے ۲۵؍ ہزارروپوں   کے جرمانے کی ادائیگی کاحکم دیا جاتاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK