پنجاب میں گیس سلنڈر کی لائن میں کھڑے بزرگ کی دل کا دورہ پڑنے سے موت۔ وافر ذخیرہ کے حکومتی دعوے کے باوجود عوام مطمئن نہیں
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 11:21 PM IST | Chandigarh
پنجاب میں گیس سلنڈر کی لائن میں کھڑے بزرگ کی دل کا دورہ پڑنے سے موت۔ وافر ذخیرہ کے حکومتی دعوے کے باوجود عوام مطمئن نہیں
حکومتی دعوے کے باوجود عوام رسوئی گیس کیلئے پریشان ہے ۔ ملک بھر میں بحرانی صورتحال دیکھی جارہی ہے۔ کمرشیل سلنڈر کی سپلائی مبینہ طور سے متاثر ہونے سے ہوٹل کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کے حصول کیلئے بھی ملک بھر میں لوگ پریشان دیکھے جارہے ہیں۔
برنالہ میں معمر شخص کی موت
پنجاب کے برنالہ ضلع میں گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے لائن میں کھڑے ایک بزرگ کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ایل پی جی کی قلت کو لے کر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برنالہ کے گاؤں شیہنا کے رہنے والے ۶۶ ؍سالہ بھوشن کمار متل جمعہ کی صبح تقریباً ۸ ؍بجے گیس سلنڈر لینے کے لیے ایجنسی پر قطار میں کھڑے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا نمبر ۲۵ ؍واں تھا اور وہ تقریباً دو گھنٹے سے انتظار کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا اور موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وہاں موجود لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ بعد میں اہل خانہ موقع پر پہنچے اور لاش کو گھر لے گئے۔ خاندان کی جانب سے پوسٹ مارٹم کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
راجستھان میں بھی ہوٹل کاروبار ٹھپ
بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق راجستھان میں ہوٹل اور ریستورانوں میں گیس کا اسٹاک ختم ہونے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہونے لگے ہیں۔ کوٹا سمیت کئی شہروں میں ہاسٹل میس اور ڈھابوں میں مجبوری کے تحت لکڑی، کوئلے اور الیکٹرک چولہوں پر کھانا پکایا جا رہا ہے۔ کئی شہروں میں ایجنسیوں پر صبح۵؍ بجے سے ہی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں، اور سلنڈر نہ ملنے پر لوگوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں تک ہو رہی ہیں۔
یوپی میں فیکٹریوں کو گیس سپلائی بند ہونے سے مزدور متاثر
اتر پردیش میں فیکٹریوں کو گیس کی سپلائی نہیں ہو رہی، جس کا اثر مٹی کے برتن (پوٹری)، چوڑیوں اور پیٹھا بنانے والی فیکٹریوں تک پڑ رہا ہے۔بلند شہر میں ایشیا کی سب سے بڑی پوٹری انڈسٹری بھی اس سے متاثر ہوئی ہے۔ یہاں تقریباً۳۰۰؍ یونٹس میں سے۹۵؍ فیصد پوٹری یونٹس بند ہو چکے ہیں، جس کے باعث۳۰؍ ہزار سے زیادہ مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔اسی طرح فیروزآباد میں چوڑیوں اور آگرہ کی پیٹھا فیکٹریوں کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ گیس کی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے بھٹیاں بند پڑی ہیں۔اگر سپلائی جلد شروع نہ ہوئی تو آگرہ میںچاندی کی پائل کی صنعت پر بھی بحران آ سکتا ہے۔
گجرات میں کمرشیل سلنڈرکے دام ۳؍سے ۴؍ہزار روپے !
گجرات میں کمرشیل گیس سلنڈروں کی شدید کمی کی وجہ سے یہاں بلیک مارکیٹ میں۳؍سے ۴؍ ہزار روپے تک میں فروخت ہو رہے ہیں۔کچھ تاجر گیس سلنڈروں کی جگہ کوئلے کے چولہوں پر کام چلا رہے ہیں۔ تاہم کوئلے کے چولہے پر کھانا پکانے میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے کاروبار میں کمی آ گئی ہے۔