راجیہ سبھا میںپیپر لیک بل پر بحث کے دوران کھرگے کی کھری کھری ، کہا:’’جواب نہیں دے سکتے توعہدہ چھوڑیں‘‘، ووٹنگ کے وقت اپوزیشن کا واک آئو ٹ ۔ بل منظورہوگیا
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 7:19 AM IST | New Delhi
راجیہ سبھا میںپیپر لیک بل پر بحث کے دوران کھرگے کی کھری کھری ، کہا:’’جواب نہیں دے سکتے توعہدہ چھوڑیں‘‘، ووٹنگ کے وقت اپوزیشن کا واک آئو ٹ ۔ بل منظورہوگیا
جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کو روکنے کے لئے ان پر پیلٹ گن چلانے کا معاملہ وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی حکومت کی گلے کی ہڈی بنتا جارہا ہے کیوں کہ لوک سبھا میں گزشتہ روز امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ زورو شور کے ساتھ اٹھائے جانے کے بعد جمعرات کو راجیہ سبھا میںبھی یہ مطالبہ پوری شدت کے ساتھ اٹھایا گیا۔ ایوان بالا میں پیپر لیک ترمیمی بل پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نےبالکل واضح انداز میں وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ۔ کھرگے نے شاہ سے پولیس زیادتی سے متعلق چار اہم سوالات پوچھے اور کہا کہ اگر امیت شاہ ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتے تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو وزیر اعظم مودی انہیں برطرف کردیں۔ واضح رہے کہ راجیہ سبھا میں بھی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران نہ وزیر اعظم مودی موجود تھے اور نہ وزیر داخلہ نے زحمت کی ۔ ان دونوں کے بغیر ہی بل پر تقریباً ۷؍ گھنٹے بحث ہوئی اور آخر میں بل صورتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔ یہاں بھی بحث کا جواب مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے دیا۔ اس سے قبل اپوزیشن نے احتجاجاً واک آئوٹ کردیا ۔
اس سے قبل راجیہ سبھا میں ’اینٹی پیپر لیک بل‘ پر زوردار بحث دیکھنے کو ملی ۔ ملکارجن کھرگے نے ’پیپر چرانے والے بچتے رہے...‘ کی شاعری سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ۲۰۲۴ء میں ہی مضبوط قانون کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس وقت آپ نے ہماری بات نہیں مانی۔ تب آپ جلد بازی میں بل لے کر آئے تھے۔ انتخابات قریب تھے اور راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا پر تھے، اس لئے آپ کو اس کا کریڈٹ نہیں مل پاتا۔ ہم اس ترمیمی بل کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اس میں بھی آپ کی نیک نیتی نظر نہیں آتی۔ موجودہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے، مسئلے کے حل کی نیت سے نہیں۔ یہ بل اب بھی نامکمل ہے۔‘‘